Urdu book · کتابِ معرفت

اسماء حسنی اور اسمِ اعظم

Urdu book, p. 377

By Maulana Wahiduddin Khan

منذر کا امام ہونا یا نہ ہونا آپ کے اختیار میں ہے، آپ اُن کو معزول کر دیجیے اور اُن کی جگہ دوسرا کوئی امام مقرر کر دیجیے، جو ایسی گستاخی نہ کرے ۔ یہ سن کر سلطان غصے میں آ گیا۔ اُس نے اپنے لڑکے کو ڈانٹ کر کہا: تمھا را بُرا ہو، ایک شخص جو ہدایت سے دور ہے اور راستے سے بھٹکا ہوا ہے، کیا اُس کی خوشی کی خاطر قاضی منذر جیسے خوبیوں والے آدمی کو معزول کر دیا جائے گا۔ یہ بات کبھی نہیں ہوسکتی (هذا اما لا يكون)۔ مجھے اُن کی باتوں سے چوٹ لگی، اس لیے میں نے اُن کے پیچھے جمعہ نہ پڑھنے کی قسم کھالی۔ میری خواہش ہے کہ اس قسم کے کفّار کے کی کوئی صورت نکل آئے۔ تاہم قاضی منذر ہماری زندگی میں اور اپنی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں گے : بل يصلّی بالناس حیاتنا وحیاتہ إن شاء الله تعالی (تاریخ قضَاة الأندلس، صفحہ 70) ، چنانچہ قاضی منذر بدستور جمعہ کی نماز پڑھاتے رہے۔ عبد الرحمن الناصر کے انتقال کے بعد اُس کے لڑکے نے بھی اُن کے مقام کو اُسی طرح باقی رکھا۔ او پرجس واقعے کا ذکر ہوا، اُس میں بہت بڑا سبق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی انسان کی وہ مطلوب صفات کیا ہیں، جواگر کسی کے اندر ہوں تو اُس کو یہ خوش قسمتی حاصل ہوتی ہے کہ وہ خدا سے ایسی دعا کر سکے جس کو اسمِ اعظم کے ساتھ کی جانے والی دعا کہا جاتا ہے۔ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا میں اگر پچاس فی صداسمِ اعظم کا حصہ ہے تو پچاس فی صد خود دعا کرنے والے کی ربّانی استعداد کا حصہ ہے۔ یہ ربّانی استعداد قاضی منذر اور سلطان عبد الرحمن دونوں کے اندر کم وبیش موجود تھی ، اس لیے اُن کے ساتھ ایک عظیم دعا کی تاریخ شامل ہوگئی۔ حسب ذیل واقعہ اس معاملے میں ایک چشم کشا مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ بارش شروع ہوگئی سلطان عبد الرحمن الناصر کے زمانے میں ایک بار اسپین میں قحط پڑا۔ بہت سخت حالات پیدا ہوگئے۔ سلطان نے اپنا ایک خاص آدمی قاضی منذر کے پاس بھیجا اور درخواست کی کہ آپ استسقاء کی نماز پڑھائیں اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے بارش برسائے۔ قاضی منذر نے سلطان کے قاصد سے پوچھا کہ سلطان نے میرے پاس دعا کا پیغام بھیجا ہے مگر وہ خود کیا کر رہے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page