Urdu book · کتابِ معرفت

اسماء حسنی اور اسمِ اعظم

Urdu book, p. 378

By Maulana Wahiduddin Khan

قاصد نے کہا: آج سے زیادہ ہم نے کبھی ان کو اللہ سے ڈرنے والا نہیں پایا۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ حیران و پریشان ہیں۔ تنہائی میں پڑے ہوئے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ وہ مٹی کے فرش پر سجدے میں گرے ہوئے تھے۔ اُن کی آنکھوں سے آنسورواں تھے۔ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر رہے تھے اور اللہ سے کہہ رہے تھے : خدایا، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے۔ کیا تو میرے گناہوں کی وجہ سے لوگوں کو عذاب دے گا، حالاں کہ تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (هذه ناصيتى بيدك، أترك تعذّب بی الرّعيّة، وأنت أرحم الراحمين)۔ یہ سن کر قاضی منذر کے چہرے پر اطمینان ظاہر ہوگیا۔ انھوں نے قاصد سے کہا: اپنے ساتھ بارش لے کر واپس جاؤ، اب ضرور بارش ہوگی۔ کیوں کہ زمین کا حاکم جب تضرع کرتا ہے تو آسمان کا حاکم ضرور رحم فرماتا ہے (إذا خشع جبار الأرض، رحم جبار السماء) چناں چہ ایسا ہی ہوا۔ قاصد واپس ہو کر گھر پہنچا تھا کہ بارش شروع ہو گئی (الكامل فی التاریخ، جلد 8، صفحہ (675)۔ زمین پر خشک سالی اس لیے آتی ہے، تا کہ آنکھوں کی خشک سالی ختم ہو۔ آسمان پر بادل اس لیے گرجتے ہیں، تا کہ لوگوں کے دل خدا کے خوف سے دہلیں۔ گرمی کی شدت اس لیے ہوتی ہے، تا کہ لوگ جہنم کی آگ کو یاد کر کے تڑپ اٹھیں۔ اس طرح کے واقعات کا نہایت گہرا تعلق، اسماء حسنی اور اسم اعظم کے معاملے سے ہے۔ یہی وہ واقعات ہیں جو انسان کے اندر ربانی کیفیات کی پرورش کرتے ہیں، اور جس سینے کے اندر ربانی کیفیات کا یہ چشمہ جاری ہو جائے، وہی وہ انسان ہے جس کو اسماء حسنی کی معرفت ہوتی ہے اور اُسی کو یہ توفیق ملتی ہے کہ وہ اسم اعظم کے ساتھ خداوند عالم کو پکارے اور اُس کی پکار ضرور سنی جائے۔ ذاتی تجربات خدا کے فضل سے مجھ کو اس قسم کے تجربے بار بار پیش آئے ہیں۔ 30 دسمبر 2006 کو میں اپنی ٹیم (سی پی ایس) کے کچھ افراد کے ساتھ نئی دہلی کے لودھی گارڈن میں گیا۔ یہ گویا کہ ہماری اسپرچول آؤٹنگ (spiritual outing) تھی۔ اس موقع پر میرے دل سے ایک دعا نکلی، جو میری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page