Urdu book · کتابِ معرفت

اسماء حسنی اور اسمِ اعظم

Urdu book, p. 379

By Maulana Wahiduddin Khan

نہم کے مطابق ، اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کی ایک مثال ہے۔ جب ہم لوگ لودھی گارڈن کے اندر پہنچ گئے تو میں نے اپنی ٹیم کے افراد سے پوچھا کہ آپ لوگ جب یہاں پہنچے تو آپ کا پہلا احساس کیا تھا۔ لوگوں نے مختلف انداز سے اپنے اپنے تجربے بتائے۔ پھر میں نے کہا کہ جب میں اس خوب صورت گارڈن کے اندر داخل ہوا تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ میں جنت کو دور سے دیکھ رہا ہوں۔ یہ خوب صورت گارڈن میرے لیے جنت کا ایک بعید تعارف بن گیا۔ میں نے اشک بار آنسوؤں کے ساتھ کہا کہ خدایا، تو نے مجھے ناقص جنت میں پہنچادیا، اب تو اپنی رحمت سے مجھے کامل جنت میں بھی داخل کردے۔ میں نے کہا کہ خدایا، میں اور میرے ساتھی، پوری انسانی تاریخ میں، جنت کے لیے سب سے زیادہ غیر مستحق لوگ (least deseving candidates) ہیں۔ اگر تو ہمارے کامل عدم استحقاق کے باوجود ہم کو اپنی جنت میں داخل کر دے تو یہ واقعہ تیری شان رحمت کے ایک نئے اظہار کے ہم معنی ہوگا۔ سارے زمین اور آسمان اور تمام فرشتے یہ دیکھ کر حیران ہو جائیں گے کہ خدا کی رحمتوں کا سمندر اتنا وسیع تھا کہ ہمارے جیسے آخری حد تک غیر مستحق افراد بھی تیری رحمت بے پایاں کے فیض سے محروم نہ رہے، تیری رحمت بے پایاں کتنی وسیع تھی کہ وہ تاریخ کے ان نااہل ترین افراد تک کا احاطہ کر رہی تھی۔ لقد أوتيت سؤلك يا موسى غالباً 1962 کی بات ہے۔ مجھے اعظم گڑھ کے ایک قصبہ (ان جان شہید) کے ایک اجتماع میں شرکت کا موقع ملا۔ اس اجتماع میں مسلم حضرات شریک تھے۔ مجھے پیشگی طور پر معلوم نہ تھا کہ مجھ کو اس اجتماع میں خطاب کرنا ہے۔ کچھ لوگوں نے اچانک مجھے اسٹیج پر لے جا کر کھڑا کر دیا۔ میرے لیے یہ ایک مجبورانہ خطاب کا معاملہ تھا۔ یہ غالباً پہلا موقع تھا جب کہ مجھے خطاب کے معاملے میں کامل عجز کا تجربہ ہوا۔ اس سے پہلے میں نے بار بار اجتماعات میں خطاب کیا تھا، مگر یہ تمام خطابات تحریری مقالے کی صورت میں تھے۔ مجھے پیشگی طور پر پروگرام کا علم ہوتا تھا اور میں مقالہ لکھ کر اس کو وہاں پڑھ دیتا تھا۔ مگر اس بار ایسی صورت پیش آئی کہ مجھے لازمی طور پر بولنا بھی تھا اور کسی پیشگی تیاری کے بغیر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page