اسماء حسنی اور اسمِ اعظم
Urdu book, p. 380
By Maulana Wahiduddin Khan
زبانی طور پر خطاب کرنا تھا۔ اُس وقت اچانک میرے اندر وہ ذہنی بھونچال کی کیفیت پیدا ہوئی جس کو نفسیاتی اصطلاح میں برین اسٹارمنگ (brain storming) کہا جاتا ہے۔ اُس وقت میرے لیے کسی آزادانہ انتخاب کا موقع نہ تھا۔ میں نے خدا کو یاد کیا اور دیوانگی کے عالم میں اچانک بولنا شروع کر دیا۔ حاضرین کے سامنے مائیک پر بولتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن میں پیغمبروں کے قصے بتائے گئے ہیں، لیکن یہ تاریخی کہانی کے طور پر نہیں، بلکہ وہ ہمارے حال کے لیے ایک زندہ سبق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اِسی میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ خدا نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ مصر کے جابر بادشاہ کے دربار میں جائیں اور وہاں اُس کے سامنے توحید کی دعوت پیش کریں۔ حضرت موسیٰ نے کہا کہ: وَيَضِيْقُ صَدْرِيْ وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِي (26:13)۔ یعنی خدایا، میرا سینہ تنگ ہو رہا ہے اور میری زبان چلتی نہیں۔ پھر انھوں نے قادرِ مطلق خدا کی توفیق سے یہ دعا کی کہ: رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي، وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي، وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِسَانِي، يَفْقَهُوا قَوْلِي (20:25-28) یعنی اے میرے رب، میرے لیے میرا سینہ کھول دے اور میرے لیے میرے معاملے کو آسان کردے۔ اور تو میرے زبان کی گرہ کو کھول دے تا کہ لوگ میری بات کو سمجھیں ۔ میں نے کہا کہ حضرت موسیٰ نے جب اس طرح خدائے سمیع و بصیر کو پکارا تو ان کی دعا سیدھے عرش الہی تک پہنچ گئی اور وہاں سے آواز آئی: قَدْ أُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسىٰ (20:36)۔ یعنی اے موسیٰ، تم نے جو سوال کیا، وہ تم کو دے دیا گیا۔ اس کے بعد میں نے دیوانگی کے عالم میں کہا کہ یہ واقعہ کوئی ماضی کی سرگذشت نہیں، یہ واقعہ آج بھی اسی طرح زندہ ہے، جس طرح خدائے حیّ و قیوم زندہ موجود ہے۔ آج بھی اگر کوئی خدا کا بندہ خدا کو پکارے اور کہے کہ خدایا، میرا سینہ تنگ ہورہا ہے اور میری زبان چلتی نہیں تو آج بھی اُس کی یہ آواز خدائے سمیع و بصیر تک پہنچے گی اور وہاں سے آواز آئے گی کہ اے میرے بندے، تم نے جو سوال کیا وہ تم کو دے دیا گیا۔ میں یہ کہہ رہا تھا اور میری آنکھ سے آنسو نہ تھمنے والے مینہ کی طرح برس رہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader