Urdu book · کتابِ معرفت

اسماء حسنی اور اسمِ اعظم

Urdu book, p. 381

By Maulana Wahiduddin Khan

تھے۔ اس کے بعد میں نے بے اختیارانہ انداز میں بولنا شروع کیا اور مسلسل بولتا رہا۔ یہ واقعہ میرے لیے اس معاملے میں ایک بریک تھرو(breakthorugh)کی مانند تھا۔ اس کے بعد میں نے تقریری مقالہ لکھنا چھوڑ دیا اور برجستہ انداز میں بولنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد میں نے انڈیا کے اندر اور انڈیا کے باہر سیکڑوں اجتماعات میں شرکت کی اور لمبی لمبی تقریریں کیں۔ یہ بلاشبہ ان جان شہید کے اجتماع والی دعا کا کرشمہ تھا۔ میری سمجھ کے مطابق، یہ دعا اسمِ اعظم کے ساتھ کی ہوئی دعا تھی۔ اس سے پہلے میں گویا ایک بے زبان انسان تھا۔ میرے مرحوم عزیز مولانا اقبال احمد سہیل (وفات: 1955) مجھ کو بچپن میں ”مرزا پھویا“ کہا کرتے تھے۔ مذکورہ واقعے کے بعد میں جس طرح اجتماعات میں بولنے لگا، اُس کی کوئی بھی توجیہہ دعا کے سوا نہیں کی جاسکتی۔ تو میرے لیے پلے بیک اسپیکر بن جا ایک بار میں ایک مغربی ملک کے سفر پر تھا۔ اس دوران مجھے ایک اجتماع میں خطاب کے لیے بلایا گیا۔ بلانے والے نے مجھ سے یہ نہیں بتایا تھا کہ مجمع کی نوعیت کیا ہوگی، اس نے صرف یہ بتایا تھا کہ یہ پڑھے لکھے لوگوں کا مجمع ہوگا۔ کسی غلط فہمی کی بنا پر میرے ذہن میں یہ آگیا کہ وہاں ہندوستان اور پاکستان کے لوگ ہوں گے اور مجھے وہاں اردو میں خطاب کرنا ہوگا۔ یہ رات کا وقت تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ایک صاف ستھرے ہال میں بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ دریافت کرنے پر مجھے بتایا گیا کہ یہ سب انگریزی داں لوگ ہیں۔ ان کو مجھے انگریزی میں خطاب کرنا ہے، کیوں کہ وہ لوگ اردو نہیں سمجھ سکتے۔ یہ خبر میرے لیے ایسی تھی جیسے کسی کے اوپر اچانک بجلی گر جائے۔ اس سے پہلے میں نے انگریزی زبان میں پیشگی طور پر تیار کیے ہوئے مقالے پڑھے تھے، لیکن برجستہ طور پر انگریزی میں میں نے کبھی خطاب نہیں کیا تھا۔ ہال کے ساتھ وہاں ایک سائیڈ روم تھا۔ میں سراسیمگی کے عالم میں اس سائیڈ روم میں گیا۔ میں نے اندر سے دروازے کو بند کر لیا۔ اور وضو کر کے دو رکعت صلوٰۃ الحاجت پڑھی۔ اس کے بعد میں نے دعا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page