Urdu book · کتابِ معرفت

اسماء حسنی اور اسمِ اعظم

Urdu book, p. 382

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لیے ہاتھ اٹھائے تو میری آنکھوں سے آنسو اس طرح بہہ رہے تھے جیسے کہ پانی کا نل کھل گیا ہو۔ میں نے روتے ہوئے کہا کہ خدایا، یہاں ایک عاجز مطلق کو قادرِ مطلق کی ترجمانی کرنی ہے۔ آپ اگر چاہیں تو پتھروں کو حکم دیں اور وہ چلا کر آپ کی بات کا اعلان کریں۔ آپ اگر حکم دیں تو درخت اپنی خاموشی کو توڑ کر انسانوں سے خطاب کریں۔ آپ اگر حکم دیں تو زمین اور آسمان، وہ سب کچھ بولیں جو انسان کو بولنا تھا، مگر وہ نہ بول سکا۔ لیکن خدایا، آپ خود اپنے قانون امتحان کی بنا پر ایسا نہیں کر سکتے۔ اس لیے آپ کے سامنے اس کے سوا کوئی اور انتخاب نہیں کہ آپ میرے جیسے عاجز انسان کی وہ مدد کریں جو اس سے پہلے آپ نے کسی اور کی نہیں کی۔ خدایا، میں آپ کے تمام اسماءِ حسنیٰ کا واسطہ دے کر آپ سے دعا کرتا ہوں کہ آپ میرے لیے پلے بیک اسپیکر (playback speaker) بن جائیں۔ آپ بولتے جائیں اور میں اس کو دہراتا جاؤں۔ آپ خاموشی کی زبان میں مجھ کو بتائیں اور میں نُطْق کی زبان میں اس کو دوسروں کے سامنے پیش کروں۔ خدایا، اگر میں اس موقع پر نہ بولوں تو یہ میرے لیے 'فرار من الزّحف‘ کے ہم معنی ہوگا۔ اور اگر آپ میری مدد نہ کریں تو اُس بات کا اعلان نہ ہو سکے گا جس کا اعلان آپ کی سب سے زیادہ مطلوب چیز ہے۔ خدایا، یہ وہ لمحہ ہے جب کہ نہ میرے لیے کوئی دوسرا انتخاب ہے اور نہ آپ کے لیے کوئی دوسرا انتخاب۔ خدایا، یہ وہ لمحہ ہے جب کہ بندے کا عجز اور خالق کی قدرت دونوں ایک سطح پر آگئے ہیں۔ ایسی صورت میں نہ میرے لیے واپسی کا موقع ہے اور نہ آپ کے لیے مجھ کو نظر انداز کرنے کا موقع۔ یہ دعا کر کے میں باہر آیا اور ہال کے اندر مقرر کی کرسی پر بیٹھ گیا۔ پورا ہال سامعین سے بھرا ہوا تھا۔ یہاں صرف مجھ کو تقریر کرنا تھا۔ میں نے دیوانگی کے عالم میں بولنا شروع کیا۔ اور تقریباً ایک گھنٹے تک انگریزی میں بولتا رہا۔ میں نے پوری تقریر برجستہ طور پر اور روانی کے ساتھ کی۔ تقریر کے خاتمے پر اعلان کیا گیا کہ کوئی صاحب سوال کرنا چاہیں تو سوال کر سکتے ہیں، لیکن مجمع کی طرف سے کوئی سوال نہ آیا۔ ایک صاحب نے بتایا کہ تمام لوگ آپ کی انگریزی تقریر سے اس قدر مسحور تھے کہ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page