Urdu book · کتابِ معرفت

اسماء حسنی اور اسمِ اعظم

Urdu book, p. 383

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنے اندر سوال کرنے کی جرأت نہ پاسکے۔ اس تجربے کے بعد میری زندگی میں غیر متوقع طور پر ایک نیا دور آیا، جب کہ میں برجستہ طور پر انگریزی زبان میں بولنے لگا۔ انگریزی میں گفتگو، انگریزی میں انٹرویو، انگریزی میں تقریر۔ یہ سب جو اس سے پہلے میری زندگی میں موجود نہ تھا، اب وہ عمومی طور پر میری زندگی میں شامل ہوگیا اور بفضلہ تعالیٰ تا دم تحریر (30 اگست 2007) جاری ہے۔ آزادی ہند (1947) کے بعد جب میں نے خصوصی طور پر انگریزی سیکھना شروع کیا تو ہر ایک میری حوصلہ شکنی کرتا تھا۔ میرے بڑے بھائی عبد العزيز خاں (وفات 1988) نے میرے انگریزی شوق کو دیکھ کر کہا تھا: بُدھا طوطا کیا پڑھے گا۔ عام تجربے کے لحاظ سے، اُن کا ایسا کہنا بالکل درست تھا۔ لیکن خدا کی نصرت سے وہ سب کچھ ہوسکتا ہے جو انسان سے نہیں ہوسکتا۔ میرے گمان کے مطابق، مذکورہ دعا بلا شبہ، اسمِ اعظم کے ساتھ کی جانے والی دعا تھی اور اسی دعا کا یہ کرشمہ تھا کہ ایک نہ ہونے والی بات واقعہ بن کر لوگوں کے سامنے آگئی۔ عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر پروفیسر محمد مجیب (وفات 1985) جامعہ ملیہ اسلامیہ (نئی دہلی) کے تین بڑے ستونوں میں سے ایک تھے۔ بقیہ دو یہ تھے: ڈاکٹر ذاکر حسین (وفات 1969)، ڈاکٹر عابد حسین (وفات 1978)۔ پروفیسر مجیب نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ اُن کو انگریزی زبان پر غیر معمولی قدرت تھی۔ انھوں نے مستشرقین (orientalists) کا لٹریچر تفصیل کے ساتھ پڑھا تھا۔ غالباً 1970 کی بات ہے۔ میں جامعہ ملیہ کے کیمپس میں پروفیسر مجیب سے ملا۔ اُس وقت پروفیسر انوار علی خاں سوز (وفات 1987) بھی میرے ساتھ تھے۔ گفتگو کے دوران پروفیسر مجیب نے خاص انداز میں مجھ سے کہا: مولوی صاحب، آپ جانتے ہیں کہ اس زمانے میں اسلام کی نمائندگی یہودی اسکالر کر رہے ہیں۔ اُن کا مطلب یہ تھا کہ موجودہ زمانے میں ایک نیا اسلوب تحریر پیدا ہوا ہے۔ اس اسلوب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page