Urdu book · کتابِ معرفت

اسماء حسنی اور اسمِ اعظم

Urdu book, p. 384

By Maulana Wahiduddin Khan

تحریر میں، مسلم علما اسلامی لٹریچر تیار نہ کرسکے۔ البتہ تعلیم یافتہ یہودیوں نے یہ کام کیا۔ انھوں نے وقت کے جدید اسلوب میں اسلام کے مختلف موضوعات پر کتابیں لکھیں ۔ ان کتابوں میں اگرچہ اسلام کی تعلیمات کو بگڑی ہوئی صورت میں پیش کیا گیا ہے، لیکن اسلوب تحریر کے اعتبار سے وہ وقت کے اسلوب میں ہیں۔ اس لیے آج جو تعلیم یافتہ لوگ انگریزی زبان میں اسلام کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں، وہ اکثر انھیں یہودی علما کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ میں پروفیسر مجیب کی باتوں کو سنتا رہا۔ میں نے ان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا، لیکن اُن کی بات کو سن کر میرے دماغ میں ایک بھونچال آگیا۔ میں خاموشی کے ساتھ واپس آگیا اور پھر رات دن یہ دعا کرنے لگا کہ خدایا، مجھے توفیق دیجیے کہ میں آپ کے دین کو آج کے اسلوب میں دنیا کے سامنے پیش کرسکوں، میں عصری اسلوب میں اسلام کا لٹریچر تیار کر سکوں۔ میں اکثر کسی واقعے کا حوالہ دے کر دعا کرتا ہوں۔ اس معاملے میں بھی میں نے ایسا ہی کیا۔ اصل یہ ہے کہ آزادی کے بعد یوپی میں خاتمہ زمین داری کا قانون(zamindari abolition act) نافذ ہوا۔ نیشنل گورنمنٹ کے تحت، یہ قانون اس اصول پر مبنی تھا کہ جو جوتے، اُس کا کھیت۔ میرا خاندان یوپی کے اعظم گڑھ سے تعلق رکھتا تھا۔ ہمارا خاندان وہاں کے بڑے زمین داروں میں سے ایک تھا۔ ہماری زمینیں زیادہ تر کسانوں کو دی ہوئی تھیں، جو اُن کو جوتتے تھے اور لگان ادا کرتے تھے۔ خاتمہ زمین داری کے قانون کے مطابق، زمین دار کو اُس کی زمین واپس ملنے کی صرف ایک ہی صورت تھی، وہ یہ کہ زمین کو جوتنے والا کسان تحریری طور پر زمین سے استعفا دے دے۔ ہماری بیش تر زمینیں کسانوں کے پاس تھیں۔ یہ کسان سب کے سب ہندو لوگ تھے۔ ہماری زمین داری کے منیجر بھی ایک ہندو تھے، جن کا نام بھاؤ رام تھا۔ بھاؤ رام ہمارے خاندان کے نہایت وفادار ملازم تھے۔ انھوں نے ایک طوفانی مہم چلادی کہ تمام کسان جو ہماری زمینوں کو جوتے ہوئے تھے، وہ تحریری استعفا دے دیں۔ بھاؤ رام نے اپنی رات دن کی کوشش سے ایک ایک کسان سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page