اسماء حسنی اور اسمِ اعظم
Urdu book, p. 385
By Maulana Wahiduddin Khan
استعفا لکھوا لیا۔ ہمارے ساتھ استثنائی طور پر ایسا ہوا کہ ہمارا کوئی بھی کھیت ایسا نہ بچا جس کا تحریری استعفا حاصل نہ کر لیا گیا ہو۔ اُس زمانے میں بھاؤ رام پر ایک دیوانگی طاری تھی۔ وہ ہم لوگوں سے کہتے تھے کہ: بابو، جم داری میں داغ نہ لگنے پائے (بابو، زمیں داری میں داغ نہ لگنے پائے) میں اس واقعے کے حوالے سے خدا سے دعا کرنے لگا۔ میں روتا تھا اور یہ کہتا تھا کہ خدایا، تیرے دین میں ایک داغ لگ رہا ہے۔ تیرادین اْس اسلوب میں پیش نہیں ہو رہا ہے جو آج کے جدید ذہن کو ایڈریس کر سکے۔ تو مجھے توفیق دے کہ میں تیرے دین کے اس داغ کو ہٹاؤں، میں وقت کے اسلوب میں اسلام کو پیش کر سکوں۔ میں بے قرار دل اور اشک بار آنکھوں کے ساتھ یہ دعا کرتا تھا اور رات دن اپنی تیاری میں مشغول رہتا تھا۔ اُس زمانے میں میری بے قراری کا عالم یہ تھا کہ ایک بار میں دلی پبلک لائبریری میں گیا۔ وہاں کے ریفرنس سیکشن میں جا کر ریفرنس کی کتابوں کو پڑھنے لگا۔ اُس وقت میری محویت کا یہ عالم تھا کہ میں قریب کی کرسی پر نہ بیٹھ سکا۔ میں الماری کے سامنے کھڑا تھا اور کتابیں نکال نکال کر پڑھ رہا تھا۔ یہ سخت سردی کا زمانہ تھا۔ چناں چہ مجھے سردی لگ گئی اور میں بیمار ہو کر تقریباً دو مہینے تک بستر پر پڑا رہا۔ آج جب کہ میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں، میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے خدا کی توفیق سے تقریباً ہر اسلامی موضوع پر اتنی کتابیں لکھی ہیں، جو ایک تعلیم یافتہ انسان کے لیے وقت کے اسلوب میں اسلام کا مؤثر تعارف پیش کرتی ہیں۔ مشرق اور مغرب دونوں جگہ کے اہلِ علم نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔ لوگوں کا یہ تاثر یہاں تک پہنچا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں بہت سے تعلیم یافتہ لوگوں نے میرے لٹریچر کو پھیلانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دی ہیں۔ امریکا میں مقیم کچھ تعلیم یافتہ مسلمانوں نے اپنے ذاتی جذبے کے تحت، میری تمام کتابوں اور ماہ نامہ الرسالہ کو انٹرنیٹ کے ویب سائٹ پر ڈال دیا ہے۔ اب دنیا کے کسی بھی حصے میں کوئی آدمی میری تحریروں کو اردو اور انگریزی میں انٹرنیٹ کی مدد سے پڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح مصر کے کچھ عرب حضرات میری کتابوں کو انٹرنیٹ پر ڈال رہے ہیں۔ ان شاء

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader