Urdu book · کتابِ معرفت

اسماء حسنی اور اسمِ اعظم

Urdu book, p. 386

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ، اب ہر جگہ میری عربی کتابیں بھی انٹرنیٹ کی مدد سے پڑھی جاسکیں گی۔ اس کے علاوہ، انڈیا میں ایک پوری ٹیم نے اپنے آپ کو اس مشن کے لیے وقف کر دیا ہے۔ اس طرح یہ کام اب ہر دن عالمی سطح پر پھیل رہا ہے۔ اسی طرح کچھ تعلیم یافتہ لوگوں نے اس لٹریچر کو اتنی زیادہ اہمیت دی کہ انھوں نے محض ذاتی جذبے کے تحت، میری اردو اور انگریزی تقریروں کو ٹی وی کے پروگرام میں شامل کر دیا۔ فجز اھم اللہ خیر الجزاء۔ عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر کا وجود میں آنا بلا شبہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ میرے جیسے عاجز اور بے حقیقت آدمی کے ذریعے یہ واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کی اس کے سوا کوئی اور تو جیہہ ممکن نہیں کہ اسم اعظم کے ساتھ مانگی جانے والی دعا جو میرے بے قرار دل سے نکلی، اُس کو خدا نے قبول فرمایا اور اس طرح اسلام کے جدید تعارف کا وہ واقعہ پیش آیا جو میرے جیسے انسان کے لیے نا قابل تصور تھا۔ ایک واقعہ 24 اکتوبر 2006 کا واقعہ ہے۔ یہ عید کا دن تھا۔ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ نئی دہلی کی ایک مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے گیا۔ وہاں میں مسجد کے ایک گوشے میں تنہا بیٹھا ہوا تھا۔ میں مسلسل رو رہا تھا اور بے قراری کے عالم میں دل کی زبان سے دعا کر رہا تھا۔ میری اس حالت کو مولا نا محمد زکوان ندوی نے دیکھا۔ بعد کو انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا کیا معاملہ تھا۔ اُن کے پوچھنے پر میں نے بتایا کہ مجھے وہ حدیث یاد آئی، جس میں عید الفطر کے دن نماز کے لیے نکلنے والے اہلِ ایمان کا ذکر ہے۔ وہ حدیث اس طرح ہے: "... فإذا كان يوم عيدهم، یعنی يوم فطر هم، باهى بهم ملائكته، فقال: ملائكتى، ماجزائُ أجيرٍ وفَّى عملَه۔ قالوا: ربّنا، جزائه أن يُوفّى أجرہ۔ قال: ملائكتى، عبیدی وإمائى قضوا فريضتى عليهم، ثم خرجوا يعجُّون إلى الدّعاء، وعزّتي وجلالي وگرمى وعلوّي وارتفاع مکانی لأجيبَنَّھم۔ فیقول: ارجعوا فقد غفرتُ لكم، وبدلتُ سيّئاتكم حسنات۔ قال: فير جعون مغفور الھم۔ (رواه البيهقي في شعب الإيمان، حديث نمبر (3444)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page