Urdu book · کتابِ معرفت

محبت الہی

Urdu book, p. 414

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا سے محبت ایک صاحب نے کہا آپ اپنی تحریروں میں خدا سے محبت پر زور دیتے ہیں۔ مجھے بتائیے کہ خدا سے محبت کیسے کی جائے ، اُس کا طریقہ کیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ کا کوئی بیٹا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ میں نے کہا کہ کیا آپ کو اپنے بیٹے سے محبت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ پھر میں نے پوچھا کہ جب آپ کے یہاں بیٹا پیدا ہوا تو کیا آپ نے ایسا کیا کہ دوسرے لوگوں سے پوچھا کہ بیٹے سے محبت کیسے کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ اپنے بیٹے سے محبت تو آپ پوچھے بغیر کرتے ہیں اور خدا سے محبت کے لیے آپ ہم سے سوال کر رہے ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا تعلق آپ کے شعور سے ہے۔ ہر باپ اپنے بیٹے سے محبت کرتا ہے، کیوں کہ وہ اپنے بیٹے کو اپنی توسیع (extention) سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر باپ خود بخود اپنے بیٹے سے محبت کرنے لگتا ہے۔ اس معاملے میں کسی باپ کو کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ خدا کا درجہ ہر آدمی کے لیے اس سے بہت زیادہ بڑا ہے۔ خدا آپ کا خالق ہے اور آپ اس کی مخلوق ہیں، مگر آپ نے خدا کو اپنے خالق (creator) کی حیثیت سے دریافت نہیں کیا۔ یہی بے شعوری ہے جس کی بنا پر آپ کو خدا سے محبت نہیں۔ اگر آپ نے خدا کو اپنے خالق اور اپنے منعم اور معطی (giver) کی حیثیت سے دریافت کیا ہوتا تو یقیناً ایسا ہوتا کہ اس معاملے میں آپ کسی اور سے سوال نہ کرتے۔ آپ کو خود بخود اپنے خالق سے مطلوب قسم کی آفاقی محبت پیدا ہو جاتی۔ خدا آپ کی زندگی میں اولین چیز بن جاتا، اور دوسری چیزیں اپنے آپ ثانوی درجے میں چلی جاتیں۔ خدا سے محبت کوئی مصنوعی چیز نہیں، وہ انسانی فطرت کی پکار ہے۔ یہ دراصل ماحول کی کنڈیشننگ ہے جو آدمی کو خدا سے دور کر دیتی ہے۔ اگر آپ اپنی سوچ کو متحرک کر کے اپنی ڈی کنڈیشننگ کر سکیں تو خود بخود آپ خدا سے جڑ جائیں گے، آپ اُسی طرح خود اپنی فطرت کی آواز کے تحت خدا سے محبت کرنے لگیں گے، جس طرح آپ اپنے بیٹے سے محبت کرتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page