محبت الہی
Urdu book, p. 417
By Maulana Wahiduddin Khan
تجسیم کا نظریہ بعض مذہیبوں میں تجسیم (incarnation) کا نظریہ پایا جاتا ہے۔ اس کو حلول یا وحدت وجود بھی کہتے ہیں۔ حلول یا تجسیم کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: تجسّد الإلہ فی شکل بشریٰ (العلمانیہ، سفر بن عبدالرحمن الحوالی، صفحہ 31)۔ یعنی خدا کا انسانی صورت میں مجسم ہونا۔ حلول یا تجسیم کا یہ تصور اصلاً ایک فلسفیانہ تصور ہے۔ قدیم فلاسفہ مانتے تھے کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے، لیکن وہ خدا ایک قسم کی اسپرٹ ہے، اس کی کوئی شکل وصورت نہیں۔ یہ خدا جب ظاہر ہونا چاہتا ہے تو وہ کسی انسان کی صورت میں مجسم ہوجاتا ہے۔ ہندو مذہب میں اسی کو اوتار وارڈ کہا جاتا ہے۔ اس تصور کے مطابق، خدا اصلاً ایک غیر شخصی خدا (impersonal god) ہے، پھر وہ مختلف زمانوں میں کسی انسان کی صورت میں متشکل ہوتا ہے۔ اسی کو ہندو مذہب میں اوتار کہا جاتا ہے۔ اسلام میں حلول یا تجسیم کا یہ نظریہ سرتا سر باطل ہے۔ کچھ صوفیا نے اس باطل تصور کو وحدتِ وجود (monism) کے نام پر اسلام میں داخل کیا، لیکن یہ یقینی طور پر ایک بے بنیاد نظریہ ہے، اسلام میں ایسے کسی نظریے کی کوئی گنجائش نہیں۔ قرآن میں کہا گیا ہے: ﴿وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ (96:19)﴾ یعنی سجدہ کرو اور قریب ہوجاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا اور بندے کے درمیان قربت کا واقعہ پیش آتا ہے، یعنی بندہ اور خدا دونوں ایک نہیں ہوجاتے، بلکہ عملًا یہ ہوتا ہے کہ ایک بندہ جب حقیقی معنوں میں ساجد بن جاتا ہے تو وہ نفسیات کی سطح پر خدا کے قرب کا تجربہ کرتا ہے۔ خدا کے ساتھ اس کی سرگوشیاں ہونے لگتی ہیں۔ اس کو خدا کی موجودگی (presence of God) کا شدید تجربہ ہوتا ہے۔ حدیث کے الفاظ میں، وہ اس طرح عبادت کرنے لگتا ہے جیسے کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے ـــــ خدا اور بندے کے درمیان وحدت کا تصور نہیں، البتہ اسلام میں، خدا اور بندے کے درمیان قربت کا تصور اپنے کامل ترین معنوں میں پایا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader