Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 461

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت کا تعارف قرآن کی سورہ محمد میں اہل جنت کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ (47:6) ۔ یعنی اللہ اُن لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا جس کی اُس نے انھیں پہچان کرا دی ہے : God will admit them into the Paradise, He has already جو اہل ایمان جنت کے حقیقی طالب بن گئے ہوں، اُن کو اس دنیا میں جنت کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے۔ وہ موجودہ دنیا کو غیر کامل جنت(imperfect paradise)کے روپ میں دیکھنے لگتے ہیں۔ ان کی یہ کیفیت ان کے لیے اس بات کا ثبوت بن جاتی ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں جنت کے طالب بن چکے ہیں۔ ایسے اہل ایمان کو ان کی معرفت کے انعام کے طور پر انھیں آخرت کی جنت میں با عزت داخلہ دیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا جنت کے جزئی تعارف کا مقام ہے، اور آخرت کی دنیا جنت کو اس کے کامل معنوں میں پانے کا مقام۔ جو لوگ اپنی سوچ کور بانی سوچ بنائیں، ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر چیز میں جنت کی جھلک دیکھنے لگتے ہیں۔ اس طرح یہ ہوتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ملی ہوئی نعمتیں اُن کے لیے آخرت کی جنت کا ابتدائی تعارف بن جاتی ہیں۔ موجودہ دنیا کی ہر چیز انسان کے لیے خدا کا ایک انعام ہے۔ جب آدمی اپنے آپ کو مزکیٰ شخصیت (purified personality) بناتا ہے تو اُس کے دیکھنے کا زاویہ (angle) بدل جاتا ہے۔ اس کا احساس عارفانہ احساس بن جاتا ہے ۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ ایسے لوگ چیزوں کو ان کی داخلی حیثیتوں کے اعتبار سے دیکھنے لگتے ہیں۔ یہی وہ مزکیٰ افراد ہیں جو جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیں گے۔ اس قسم کی عارفانہ نظر صرف اُن لوگوں میں پیدا ہوتی ہے جو حقیقی معنوں میں اپنا تزکیہ کریں۔ تزکیہ کے بغیر کسی شخص کے اندر اس قسم کی صلاحیت پیدا نہیں ہو سکتی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page