خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 462
By Maulana Wahiduddin Khan
حکمت تخلیق قرآن کی سورہ التین میں انسان کی تخلیق اور اس کے انجام کا ذکر آیا ہے۔ اس سلسلے میں آیات کے الفاظ یہ ہیں : لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ، ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ، إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ (98:4-6)۔ یعنی بلا شبہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا، پھر اس کو سب سے نیچے پھینک دیا، سوا اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنھوں نے اچھے کام کئے تو اُن کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ اس آیت میں احسن تقویم سے مراد جنتی تقویم ہے۔ اسفل سافلین سے مراد غیر جنتی دنیا ہے۔ ایمان سے مراد یہ ہے کہ آدمی تخلیق کی اس حقیقت کو دریافت کرے۔ عمل صالح سے مراد ہے اس دریافت اور اس کے تقاضے کے مطابق عمل۔ اجر غیر ممنون سے مراد وہ معیاری جنت ہے جس کے لیے انسان کو بنایا گیا ہے۔ اس تشریح کے مطابق، قرآن کی ان آیتوں کا مطلب یہ ہوگا ۔ اللہ نے انسان کو جنتی اوصاف کے ساتھ بنایا۔ اس نے انسان کے اندر ہر اعتبار سے وہ اعلیٰ ذوق رکھا جس کی تکمیل (fulfilment) کا سامان صرف جنت کی دنیا میں ممکن ہے۔ پھر اُس کو موجودہ غیر جنتی دنیا میں آباد کر دیا۔ اس دنیا میں بظاہر سب کچھ موجود ہے، مگر وہ صرف بقدر ضرورت ہے، نہ کہ بقدر ذوق ۔ اب انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ تخلیق کی اس حکمت کو دریافت کرے ۔ یہ دریافت اتنی شدید ہو کہ آدمی کی پوری زندگی اسی کے مطابق ڈھل جائے۔ دنیا کی زندگی میں جولوگ اس کا ثبوت دیں، وہی وہ لوگ ہیں جن کو آخرت کی ابدی جنتوں میں بسایا جائے گا، جہاں وہ ہر اعتبار سے فل فل مینٹ (fulfilment) پائیں گے۔ وہ ابدی طور پر ان جنتوں میں رہیں گے۔ جنت کی دنیا ہر اعتبار سے، ایک مکمل دنیا ہوگی ۔ وہ خوف اور حزن سے پوری طرح خالی ہوگی ۔ انسان کا یہی وہ ابدی مستقبل ہے جس کی خبر دینے کے لیے خدا کے تمام پیغمبر آتے رہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader