خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 468
By Maulana Wahiduddin Khan
اہل جنت کا کلمہ قرآن کی سورہ فاطر میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں داخل کئے جائیں گے تو وہ کہیں گے : الْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (35:34)۔ یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے حُزْن (sorrow) کو دور کر دیا : Praise be to God, who has taken away all sorrow from us. قرآن کی یہ آیت دعا کے لیے ایک اہم پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) دیتی ہے۔ اس دعا میں اہلِ ایمان اللہ کے ایک اسمِ اعظم کو دریافت کرتے ہیں، جس کے حوالے سے دعا کر کے وہ جنت کے مستحق بن سکیں۔ یہ اسمِ اعظم خدا کا مذہب حزن ہونا ہے، یعنی غم کو دور کرنے والا۔ ہر انسان کے ساتھ اس دنیا میں حُزْن کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے، پھر فطرت کے نظام کے تحت وہ رفع ہو جاتا ہے۔ مثلاً بیماری کے بعد اچھا ہو جانا ، حادثے کے بعد صحت مند ہو جانا ، تکلیف کے بعد دوبارہ آرام مل جانا، نا خوش گوار تجربے کے بعد دوبارہ خوش گوار تجربہ پیش آنا، وغیرہ۔ اس طرح کے تجربے کے وقت انسان گویا کہ اللہ کی ایک صفت کو دریافت کرتا ہے، یہ اللہ کا مذہب حزن ہونا ہے۔ جب بھی ایسا تجربہ کسی انسان کو پیش آتا ہے تو وہ اُس کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اس کے حوالے سے یہ دعا کرے ــــ اے اللہ، موت سے پہلے دنیا کی زندگی میں جس طرح تو نے میرے ساتھ اذہاب حزن (حزن کو دور کرنے کا معاملہ فرمایا، اسی طرح تو موت کے بعد آخرت کی زندگی میں میرے ساتھ اذہاب حزن کا معاملہ فرما۔ یہ دعا کی اعلیٰ قسم ہے۔ یہی وہ دعا ہے جس کو حدیث میں اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنا بتایا گیا ہے۔ اس قسم کی دعا کا موقع اس دنیا میں ہر انسان کو بار بار ملتا رہتا ہے۔ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنا، بلا شبہ سب سے بڑی دعا ہے، لیکن اسمِ اعظم کتاب میں چھپے ہوئے کسی اسم کا نام نہیں، اسمِ اعظم وہ ہے جس کو انسان خود دریافت کرتا ہے اور پھر اس کے حوالے سے وہ اخبات اور انابت کے ساتھ اللہ سے دعا کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader