Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 469

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت دنیا، جنتِ آخرت قرآن کے مطابق، موجودہ دنیا آخرت کی دنیا کے عین مشابہ (البقرۃ، 2:25) ہے۔ جو چیزیں آخرت کی جنت میں موجود ہوں گی، وہ سب موجودہ ارضی جنت میں موجود ہیں، صرف اس فرق کے ساتھ کہ آخرت کی جنت میں ہر چیز پرفیکٹ (perfect) ہوگی، اور موجودہ دنیا میں ہر چیز امپر فکٹ (imperfect) حالت میں پائی جاتی ہے۔ اس لیے قرآن میں آیا ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو بقدر ضرورت (ابراهیم، 14:34) دیا گیا ہے، اور آخرت کی جنت میں تمام چیزیں انسان کو بقدر اشتہا دی جائیں گی: وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنْفُسُ (43:71)۔ آخرت دار الجزاء ہے، اور موجودہ دنیا دار الامتحان۔ مصلحتِ امتحان کی بنا پر موجودہ دنیا میں کبد (البلد، 90:4) رکھ دیا گیا ہے، یعنی مسائل۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آخرت کی جنت ایک ایسا پھول ہے جو صرف پھول ہے۔ اس کے مقابلے میں، دنیا کی جنت ایک ایسا پھول ہے جس کی شاخ میں کانٹا بھی لگا ہوا ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ پھول کو لے اور کانٹے کو نظر انداز کر دے۔ کانٹے کی موجودگی کو نظر انداز کرنا ہی یہاں کا اصل امتحان ہے۔ جو آدمی پھول کو لے اور کانٹے کو بھلا دے، وہ امتحان میں پورا اترا۔ وہ شکر کے جذبات کے ساتھ اس دنیا میں زندگی گزارے گا جو کہ خدا کا اصل مطلوب ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی کانٹے کی موجودگی کو نظر انداز نہ کر سکے، وہ ہمیشہ شکایتوں میں جئے گا، وہ دنیا میں شکر کی عبادت سے محروم رہے گا اور آخرت میں جنت میں داخلے سے محروم۔ موجودہ دنیا کو جنت کے طور پر دریافت کرنا ہی اپنے آپ کو آخرت کی جنت کا مستحق بنانا ہے۔ لیکن انسان ”کانٹوں“ کی موجودگی کو لے کر نفرت و شکایت میں پڑا رہتا ہے۔ مگر یاد رکھیے، موجودہ دنیا کا کانٹا اعراض کے لیے ہے، نہ کہ احتجاج کے لیے۔ جو لوگ اس راز کو نہ سمجھیں، اُن کے حصے میں آخر کار جو چیز آئے گی، وہ صرف محرومی ہے، نہ کہ کوئی کامیابی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page