خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 470
By Maulana Wahiduddin Khan
مقصدِ تخلیق قرآن میں انسان کے مقصدِ تخلیق کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (56: 51) ۔ یعنی اور میں نے جن اور انسان کو صرف اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ مجاہد تابعی کے بقول اس آیت میں عبادت سے مراد معرفت ہے، یعنی انسان کو اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اپنے خالق کی معرفت حاصل کرے ۔ یہ معرفت انسان کو کیسے حاصل ہوگی، اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ نظام کیا کہ انسان کو ایسادماغ دیا جولامدودطور پر سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسری طرف، اس کو ایک ایسی کائنات میں پیدا کیا گیا جو خدا کی صفات کا مظہر ہے۔ اس کائنات کی ہر چیز میں اللہ کی معرفت کی غذا موجود ہے۔ انسان، پیغمبر کی رہنمائی کے تحت غور کر کے تخلیقاتِ الہی میں اللہ کی معرفت حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ یہ مقصدِ تخلیق عملاً پورا نہ ہو سکا۔ انسان کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے دماغ کا بہت کم حصہ استعمال کر کے مر جاتا ہے۔ گویا کہ ہر انسان پیدا ہو کر اس طرح اس دنیا سے چلا جاتا ہے کہ اُس کا دماغ غیر استعمال شدہ (unutilized) رہ جاتا ہے۔ دوسری طرف، قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے کلمات اتنے زیادہ ہیں کہ اگر دنیا کے تمام درختوں سے قلم بنایا جائے اور دنیا کے تمام سمندر اتنے ہی اور سمندر سیاہی بنا دئے جائیں اور کلماتِ الہی کو لکھنا شروع کیا جائے تو اُن کا بیان مکمل نہیں ہوگا (الکہف، 18:109) ۔ یہ کلمات دراصل کلماتِ معرفت ہیں۔ اِس طرح عملاً یہ صورتِ حال ہے کہ اللہ کے کلماتِ معرفت ابھی تک غیر دریافت شدہ (undiscovered) حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا جواب اللہ کے تخلیقی پلان میں ملتا ہے۔ اللہ کے تخلیقی پلان کے مطابق، انسان کی زندگی دو دوروں میں تقسیم ہے ـــ موجودہ دنیا کی عارضی مدت، اور آخرت کی ابدی مدت۔ جس طرح انسان اب تک اپنے دماغ کے امکانات کو استعمال نہ کر سکا، اُسی طرح کائنات میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader