خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 484
By Maulana Wahiduddin Khan
فردوس کا طالب حضرت عبادہ بن الصامت سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فی الجنة مائة درجۃ مابین کل درجتین كما بين السماء والأرض، والفردوس أعلاها درجۃ ومنها تفجر أنهار الأربعة، ومن فوقها يكون العرش، فإذا سألتم الله فسلوه الفردوس‘‘۔ (سنن الترمذی، حدیث نمبر (2471)۔ یعنی جنت کے ایک سو درجے ہیں۔ ہر دو درجے کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا کہ زمین اور آسمان کے درمیان فاصلہ۔ اور فردوس، جنت کا سب سے اونچا درجہ ہے۔ اُس سے جنت کے چار چشمے جاری ہوتے ہیں۔ اور اس کے اوپر خدا کا عرش ہے۔ پس جب تم اللہ سے جنت کا سوال کرو تو تم اُس سے فردوس کا سوال کرو۔ اس حدیث رسول میں جنت کا سوال کرنے کا مطلب صرف جنت کے لیے لفظی دعا کرنا نہیں ہے۔ اس حدیث میں جنت کا سوال کرنے سے مراد جنت کا طالب بننا ہے۔ انسان کی نفسیات یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اعلیٰ ترین چیز کا طالب بنتا ہے۔ نفسیاتی اعتبار سے انسان اعلیٰ سے کم تر چیز پر راضی نہیں ہوتا۔ نفسیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو فردوس کا طالب بننے کا مطلب یہ ہے کہ اعلیٰ ترین جنت کو پانے کے لیے تم اس کے لیے اعلیٰ ترین عمل کرنے والے بن جاؤ۔ تم اپنے آپ کو معرفت اور تزکیہ کے اعتبار سے، اعلیٰ ترین سطح پر پہنچاؤ، تا کہ تم اعلیٰ ترین جنت کے مستحق قرار پاؤ۔ تم اپنی شخصیت کی تعمیر اُن اعلیٰ تقاضوں کے مطابق کرو جو کہ اعلیٰ جنت میں داخلے کے لیے مطلوب ہیں۔ تم عامل فردوس بن کرو، اپنے بارے میں طالب فردوس کا ثبوت دو۔ اس حدیث میں بظاہر اللہ سے فردوس کا سائل بننے کا ذکر ہے، لیکن باعتبارِ حقیقت اُس کا مطلب یہ ہے کہ تم فردوس کی نسبت سے، اُس کے عامل بن جاؤ، تا کہ تم اُس خوش نصیب گروہ میں شامل ہو جاؤ جس کو آخرت میں جنت الفردوس میں بسایا جائے، یہ جنت الفردوس خداوند عالم کے پڑوس کا دوسرا نام ہے۔ فردوس کے لیے اعلیٰ عمل یہ ہے کہ جنت کے سوا کوئی اور چیز آدمی کے مطلوب کی حیثیت سے باقی نہ رہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader