خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 486
By Maulana Wahiduddin Khan
اُس میں کبھی داخل نہیں ہوگا۔ پھر اللہ نے جہنم کو شہوات سے ڈھانک دیا۔ پھر اللہ نے کہا کہ اے جبریل جاؤ اور جہنم کو دیکھو۔ جبریل گئے اور انھوں نے جہنم کو دیکھا۔ پھر جبریل واپس آئے اور انھوں نے کہا کہ اے میرے رب، تیرے عزت و جلال کی قسم، مجھے ڈر ہے کہ کوئی بھی شخص نہیں بچے گا جو اُس میں داخل نہ ہو جائے۔ جنت اور جہنم کو لوگ اگر ان کی اصل صورت میں دیکھ لیں، تو ہر آدمی جنت کا شائق بن جائے، اور ہر آدمی جہنم سے بھاگنے لگے۔ لیکن موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ اس آزمائش کی بنا پر ایسا ہے کہ جنت کا راستہ ناخوش گوار چیزوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ اس کے برعکس، جہنم کا راستہ ہر طرف خوش گوار چیزوں سے بھرا ہوا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جنت میں داخلے کا مستحق بننے کے لیے آدمی کو اپنی خواہشات (desires) پر روک لگانا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس، جہنم کا معاملہ یہ ہے کہ آدمی اپنی خواہشوں پر بے روک ٹوک چلتا ہے تو آخر کار وہ جہاں پہنچے گا، وہ جہنم کا گڑھا ہوگا۔ اپنی خواہشوں پر روک لگانے سے آدمی کے اندر وہ مزکّی شخصیت (purified personality) بنتی ہے جو جنت میں داخلے کی مستحق قرار پائے۔ اس کے برعکس، اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے سے آدمی کے اندر وہ غیر مزکّی شخصیت بنتی ہے جس کا ٹھکانہ صرف جہنم ہو۔ یہی بات قرآن میں اس طرح کہی گئی ہے: قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا ، وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا (10- 9 :91)۔ جنت میں داخلے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے اوپر مسلسل نگراں بنا ہوا ہو، وہ اپنا راستہ گہری سوچ کے تحت متعین کرے۔ اس کے برعکس، جو شخص بے قید زندگی گزارے، اُس کا انجام یہ ہوگا کہ وہ بظاہر خوشیوں میں جیتا ہوا آخر کار ایک ایسی دنیا میں پہنچے گا جہاں ہر قسم کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے اُس سے چھن چکی ہوں گی۔ آخرت کی جنت اُس کے لیے ہے جو اس دنیا کی لذتوں سے اپنے آپ کو بے رغبت بنالے، اور آخرت کی جہنم اُس کے لیے ہے جو اس دنیا کی لذتوں میں گم رہے، یہاں تک کہ وہ اِسی حال میں مر جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader