خدا کا پڑوس
Urdu book, p. 487
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت کا سودا حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من خاف أدلج، ومن أدلج بلغ المنزل، ألا إن سلعة الله غالية، ألا إن سلعة الله الجنة (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2450)۔ یعنی جس کو اندیشہ ہوتا ہے، وہ سفر میں ادلاج کرتا ہے۔ اور جو ادلاج کرتا ہے، وہ منزل پر پہنچتا ہے۔ سن لو، اللہ کا سودا بہت قیمتی ہے۔ سن لو، اللہ کا سودا جنت ہے۔ ’ادلاج‘ کا مطلب ہے ۔ رات کے اندھیرے میں سفر شروع کرنا۔ قدیم عرب میں یہ رواج تھا کہ مسافر رات کے اندھیرے سے اپنا سفر شروع کرتا تھا، تا کہ صبح کو دھوپ تیز ہونے سے پہلے وہ اپنی منزل پر پہنچ جائے۔ یہ صحرائی سفر کا طریقہ تھا، کیوں کہ صحرائی سفر میں یہ اندیشہ ہوتا تھا کہ اگر آدمی تیز دھوپ کی زد میں آ جائے تو وہ خود بھی مر جائے گا اور اس کا اونٹ بھی ہلاک ہو جائے گا۔ جنت کے طالب کا معاملہ بھی یہی ہے۔ جنت کے طالب کو نہایت دور اندیشی کے ساتھ اپنا منصوبہ بنانا ہے۔ اس کو اتنی زیادہ تیاری کے ساتھ جنت کے سفر پر روانہ ہونا ہے کہ کوئی قابل قیاس یا نا قابلِ قیاس عذر (excuse) اس کے راستے میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ کوئی بھی چیز اس کو درمیانی راستے سے منحرف نہ کر دے۔ کوئی بھی چیز اس کو سیدھے راستے سے ہٹانے والی ثابت نہ ہو۔ ایک تاجر دنیا کے تجارتی سودے کے لیے آخری حد تک اہتمام کرتا ہے۔ خدا کا سودا جو کہ جنت ہے، وہ تمام سودوں سے زیادہ قیمتی سودا ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ جنت کے سفر کی منصوبہ بندی میں آخری حد تک اہتمام کرے، جس طرح وہ دنیا کے سفر میں منصوبہ بندی (planning) کا اہتمام کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ہر طرح غفلت کا شکار ہونے سے بچائے۔ جنت کسی انسان کو حقیقی عمل کی بنیاد پر ملے گی، نہ کہ محض خوش فہمیوں کی بنیاد پر۔ منصوبہ بند عمل کامیابی کا ذریعہ ہے۔ دنیا کی کامیابی منصوبہ بند عمل کے ذریعہ ممکن ہوتی ہے۔ اسی طرح آخرت کی کامیابی بھی منصوبہ بند عمل (Akhirat-oriented planning) کے ذریعہ ہی ممکن ہوگی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader