Urdu book · کتابِ معرفت

خدا کا پڑوس

Urdu book, p. 510

By Maulana Wahiduddin Khan

امپرفیکٹ جنت، پرفیکٹ جنت موجودہ زمین پر وہ تمام چیزیں موجود ہیں جن کا وعدہ قرآن میں جنت کے لیے کیا گیا ہے۔ پھر دونوں میں فرق کیا ہے۔ فرق یہ ہے کہ موجودہ دنیا امپرفیکٹ دنیا (imperfect world) ہے، اور جنت پرفیکٹ دنیا (perfect world)۔ اسی معنی میں موجودہ دنیا کی نعمتوں کو قرآن میں جنت کی نعمتوں کےمشابہ (similar) بتایا گیا ہے (سورۃ البقرۃ، 25 :2)۔ بظاہر موجودہ دنیا میں انسان کی تمام پسندیدہ چیزیں موجود ہیں۔ مگر موجودہ دنیا میں یہ چیزیں چکھنے کے لیے ہیں، وہ سیر ہونے کے لیے نہیں، یہاں وہ صرف بقدر ذائقہ (taste) ہیں۔ جہاں تک فل فل مینٹ (fulfilment) کی بات ہے، وہ صرف آخرت کی جنت میں اُن سچے انسانوں کو ملے گا جو جنت کے داخلے کے لیے منتخب کئے جائیں گے۔ یہ نہایت عجیب بات ہے کہ وسیع کائنات میں صرف انسان ہے جس کے اندر ذائقہ (taste) کا تصور پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر حیوانات کے منہ میں بھی زبان ہوتی ہے، لیکن حیوانات کی زبان میں وہ ذائقہ خانے (taste buds) نہیں ہوتے جو انسان کی زبان میں پائے جاتے ہیں۔ یہی معاملہ دوسری تمام لذتوں کا ہے۔ انسان کے اندر خصوصی طور پر اس قسم کی صلاحیت کا ہونا بتاتا ہے کہ تمام مخلوقات میں صرف انسان ہے جس کو جنت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ جنت انسان کے لیے ہے اور انسان جنت کے لیے۔ انسان کو خصوصی طور پر یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ جنت کی نعمتوں کا جزئی تجربہ کرے اور پھر وہ جنت کی اعلیٰ نعمتوں کا حریص بنے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی اس خصوصی حیثیت کو دریافت کرے اور اس امکان کو اپنے لیے واقعہ بنانے کی کوشش کرے۔ یہی انسانی کامیابی کا واحد معیار ہے۔ اس معاملے میں جو شخص کامیاب ہوا، وہ کامیاب ہے، اور جو شخص اس معاملے میں نا کام ہوا، وہ نا کام۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page