Urdu book · کتابِ معرفت

آخرت کا سفر

Urdu book, p. 546

By Maulana Wahiduddin Khan

موت کا استحضار ایک حدیث کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موۡتُوۡا قَبۡلَ أَنۡ تَمُوۡتُوۡا (المقاصد الحسنۃ، حدیث نمبر 1213) یعنی موت سے پہلے مرجاؤ۔ اس حدیث میں وہی بات کہی گئی ہے جو ایک دوسری روایت میں ان الفاظ میں آئی ہے: أَکۡثِرُوۡا ذِکۡرَ ھَاذِمِ اللَّذَّاتِ يَعۡنِي الۡمَوۡتَ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2307) یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو، جولذتوں کو ڈھادینے والی ہے۔ موت کے بارے میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں۔ اُن سب کا خلاصہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے— موت کے زندہ استحضار میں جینا۔ موت کا زندہ استحضار کوئی سادہ بات نہیں۔ کیرم بورڈ کی اصطلاح کے مطابق، یہ ایک ماسٹر اسٹروک (master stroke) ہے۔ موت کا زندہ استحضار آدمی کی پوری شخصیت کو ہلا دیتا ہے۔ وہ اس کے اندر ایک روحانی انقلاب پیدا کردیتا ہے۔ اگر آپ کی پیدائش 10 جولائی کو ہوئی ہے تو یہ سوچیے کہ 10 جولائی سے پہلے میرا کوئی وجود نہ تھا۔ جلدی ہی جب موت آئے گی تو اس کے بعد بھی موجودہ دنیا میں میرا کوئی وجود نہ ہوگا۔ آدمی اگر اس حقیقت کو دھیان میں رکھے تو یہی ایک چیز اس کی پوری زندگی کی اصلاح کے لیے کافی ہوجائے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کی زندہ یاد کسی انسان کے لیے ایک دھماکہ سے کم نہیں۔ موت کی زندہ یاد آدمی سے انا (ego) کے جذبے کو چھین لیتی ہے۔ موت کی زندہ یاد برتری کے احساس کا خاتمہ کردیتی ہے۔ موت کی زندہ یاد غصہ، حسد اور انتقام جیسے منفی جذبات کو مٹادیتی ہے۔ موت کی زندہ یاد آدمی کے اندر سے حرص کو اس طرح ختم کردیتی ہے جیسے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ موت کی زندہ یاد آدمی کو محاسبہ کی سوچ میں جینے والا بنادیتی ہے، اور جو آدمی محاسبہ کی سوچ میں جینے لگے، اس کو غلط کام میں ملوث ہونا ایسا ہی معلوم ہوگا جیسے کہ جلتی ہوئی آگ میں کودنا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page