Urdu book · کتابِ معرفت

آخرت کا سفر

Urdu book, p. 548

By Maulana Wahiduddin Khan

موت کی یاد کیا ہے موت کی یاد کیا ہے، موت کی یاد کا مطلب دراصل یہ ہے کہ موت رُخی منصوبہ بندی (death-oriented planning) کی جائے، موت کی صورت حال سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اس کی پیشگی تیاری کی جائے۔ موت کے لیے سوچنا ویسا ہی ہے جیسے زندگی کے لیے سوچنا۔ کسی گھر میں جب ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو فوراً ہی اس کی زندگی کی پلاننگ (planning) شروع ہو جاتی ہے۔ اُس کو تعلیم کے ایک ایسے کورس میں داخل کیا جاتا ہے جس کی تکمیل اس کے لیے بہتر جاب (job) کی یقینی ضمانت ہو۔ یہی معاملہ موت کا ہے۔ موت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کرے کہ وہ موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں اپنے لیے ایک اچھی جگہ حاصل کر سکے۔ موت کی یاد کا مطلب یہ ہے کہ آدمی موت کے بعد پیش آنے والے مرحلۂ حیات پر غور کرے، وہ اُس کے مطابق اپنا ذہن بنائے، وہ اپنے اندر وہ صفات پیدا کرے جو موت کے بعد کی زندگی میں کام آنے والی ہیں، وہ اپنے اندر ایسی شخصیت کی تعمیر کرے جو موت کے بعد کے حالات میں اس کو سر فرازی عطا کرنے والی ہو۔ موجودہ زندگی میں اگر ایک شخص اچھی تعلیم حاصل نہ کر سکے تو اپنی عمر کے باقی حصے میں وہ ہمیشہ حسرت (regret) میں پڑا رہتا ہے۔ وہ سوچتا رہتا ہے کہ کاش، میں نے اچھی تعلیم حاصل کی ہوتی تو آج میں اچھا جاب حاصل کر سکتا تھا۔ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر موت کے بعد آنے والے مرحلۂ حیات (post-death period) کا ہے۔ جو لوگ موت سے پہلے، موت کے بعد والی زندگی کے لیے تیاری کریں، وہ وہاں خوشیوں کے ماحول میں زندگی گزاریں گے، اور جو لوگ ایسا نہ کر سکیں، وہ ہمیشہ کے لیے حسرت میں پڑے رہیں گے، جبکہ دنیا کی حسرت کے مقابلے میں، آخرت کی حسرت نا قابل بیان حد تک درد ناک ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page