Urdu book · کتابِ معرفت

آخرت کا سفر

Urdu book, p. 549

By Maulana Wahiduddin Khan

موت کا بھونچال دروازے پر دستک ہوئی۔ کوئی صاحب مجھ سے ملنے کے لیے آئے تھے دستک کی آواز سن کر اچانک مجھے خیال آیا کہ اسی طرح ایک دن موت کا فرشتہ یہاں آجاۓ گا۔ موت کا فرشتہ جب آۓ گا تو اس کو دستک دینے کی ضرورت نہیں ہوگی ، حتی کہ اس کے لیے یہ بھی ضروری نہیں ہوگا کہ گھر کا دروازہ کھلے اور اس کے بعد وہ اندر داخل ہو۔ موت کے فرشتے کو نہ صاحب خانہ سے اجازت لینے کی ضرورت ہوگی اور نہ کسی کی رکاوٹ اس کے لیے روک ثابت ہوگی۔ وہ یک طرفہ فیصلے کے تحت اچانک آدمی کے پاس پہنچ جائے گا اور اس کی روح قبض کر کے چلا جائے گا۔ موجودہ دنیا میں دو چیزیں ایسی ہیں جو مکمل طور پر بلا اطلاع آتی ہیں۔ ان کو نہ ہم روک سکتے ہیں اور نہ ان کی آمد کو پیشگی طور پر جان سکتے ہیں۔ یہ دو چیزیں ہیں ـــــ موت اور بھونچال۔ بھونچال زمین کے اوپر آتا ہے اور موت انسان کے اوپر آتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ موت بھونچال سے زیادہ خطر ناک ہے۔ بھونچال بے روح مادّے کے اوپر آتا ہے، لیکن موت زندہ انسان کے اوپر آتی ہے۔ بھونچال کی تباہی آج (today) کی نسبت سے ہوتی ہے، اور موت کی تباہی کل (tomorrow) کی نسبت سے۔ موت کا سنگین ترین پہلو یہ ہے کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں، موت ایک نئی زندگی کا آغاز ہے۔ موت کے بعد آدمی ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ اس کے پیچھے وہ دنیا ہوتی ہے جس کو وہ مکمل طور پر چھوڑ چکا، اور اس کے آگے وہ دنیا ہوتی ہے جہاں وہ بالکل اکیلا ہوتا ہے اور کامل طور پر بے سروسامان بھی۔ حدیث میں آیا ہے : اَلْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2459) یعنی عقل مند وہ ہے جو دنیا کے معاملے میں اپنے نفس پر قابو رکھے اور موت کے بعد کے معاملے کو اپنے عمل کا نشانہ بنائے۔ موت آدمی کے لیے اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ موت زندگی کے لیے سب سے بڑے معلم کی حیثیت رکھتی ہے۔ جو آدمی موت سے یہ سبق لے سکے، اس کا پورا رویہ درست ہو جائے گا۔ وہ ہر معاملے میں آخری حد تک محتاط بن جائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page