آخرت کا سفر
Urdu book, p. 550
By Maulana Wahiduddin Khan
سب سے بڑی غلط فہمی موجودہ دنیا میں آدمی کو ضرورت کی تمام چیزیں ملی ہوئی ہیں۔ یہ صورت حال ہر شخص کو غلط فہمی میں ڈالے ہوئے ہے۔ ہر آدمی سمجھتا ہے کہ یہ چیزیں اس کا حق ہیں اور وہ ہمیشہ اسی طرح اُس کو حاصل رہیں گی۔ حالاں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اصل یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں آدمی کو صرف عارضی طور پر امتحان کے لیے دی گئی ہیں۔ امتحان کی مقرر مدت تک وہ اس کو حاصل رہیں گی اور اس کے بعد اچانک وہ اس سے چھین جائیں گی۔ موت ختم مدت کا یہی لمحہ ہے۔ موت کے بعد انسان اسی طرح باقی رہے گا، مگر چیزیں سب کی سب اُس سے چھن چکی ہوں گی۔ انسان ایک محتاج مخلوق ہے۔ اس کو اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے بہت سی چیزیں درکار ہیں۔ یہ تمام چیزیں پیدا کر کے اللہ تعالیٰ نے انسان کو دے دی ہیں۔ مگر قبل از موت دورِ حیات اور بعد از موت دورِ حیات میں ایک فرق ہے۔ قبل از موت دورِ حیات میں یہ چیزیں عمومی تقسیم (general distribution) کے طور پر سب کو ملی ہوئی ہیں، لیکن بعد از موت دورِ حیات میں یہ صورت حال بدل جائے گی۔ اُس وقت انتخابی تقسیم (selective distribution) کا اصول رائج ہو جائے گا، اور پھر کوئی پائے گا اور کوئی مکمل طور پر محروم رہے گا۔ موت اِسی سنگین واقعے کے لیے ایک یاددہانی کی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا میں روزانہ ایک لاکھ سے زیادہ لوگ مر جاتے ہیں۔ یہ مرنے والے لوگ خاموش زبان میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم زندگی کے پہلے دور سے نکل کر دوسرے دور میں جا رہے ہیں۔ تمھارے اوپر بھی لازماً یہ وقت آنے والا ہے۔ ہم اپنا موقع کھو چکے۔ تم ہوشیار ہو جاؤ اور ہماری طرح کھونے والے مت بنو۔ ہم اب لوٹ کر دوبارہ اس دنیا میں نہیں آسکتے۔ تمھارے اوپر بھی ایک دن وہ لمحہ آئے گا، جب کہ تم موجودہ ملے ہوئے موقع کو پوری طرح کھو دو گے۔ اس حقیقت کو جانو اور اس کے مطابق اپنی زندگی کا منصوبہ بناؤ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader