Urdu book · کتابِ معرفت

آخرت کا سفر

Urdu book, p. 551

By Maulana Wahiduddin Khan

نامعلوم منزل کی طرف سفر نومبر 1984 میں مجھے ایک انوکھے قسم کا دعوت نامہ ملا۔ یہ دعوت نامہ بظاہر ایک کانفرنس کی طرف سے تھا، لیکن اس میں ضروری تفصیلات موجود نہ تھیں۔ مجھ کو جو چیز ملی، وہ صرف فرسٹ کلاس کا ایک رٹرن ٹکٹ تھا۔ اس پر لکھا ہوا تھا: Delhi-Casablanca-Delhi جب یہ ہوائی ٹکٹ مجھ کو ملا، اُس وقت کیسا بلانکا (مراکو) میرے لیے ایک غیر معروف نام تھا۔ میں کیسا بلانکا کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا۔ میں اس سفر کے بارے میں سخت متردد تھا۔ لیکن جب تاریخ آئی تو میں بادل ناخواستہ دہلی ائیر پورٹ گیا اور ڈرتے ہوئے ہوائی جہاز کے اندر بیٹھ گیا۔ ہوائی جہاز بلند ہو کر فضا میں اڑنے لگا۔ میرے دل میں عجیب و غریب قسم کے خیالات آ رہے تھے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ جہاز مجھ کو کہاں پہنچائے گا اور وہاں سے پھر میں کہاں جاؤں گا۔ ہوائی جہاز پرواز کرتا رہا، یہاں تک کہ وہ وقت آ یا جب کہ اناؤنسر نے یہ اعلان کیا کہ ہمارا جہاز جلد ہی کیسا بلانکا کے ائیر پورٹ پر اترنے والا ہے۔ تمام مسافر ایک ایک کر کے جہاز سے اتر گئے۔ آخر میں میں اپنی سیٹ سے اٹھا اور دھیرے دھیرے چلتے ہوئے ہوائی جہاز کے باہر آیا۔ اُس وقت میرا عجیب حال تھا۔ ائیر پورٹ پر کوئی مجھ کو سیو (receive) کرنے والا موجود نہ تھا۔ (بقیہ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، الرسالہ جنوری 1985، صفحہ 31-30) یہ واقعہ مجھ کو اکثر یاد آتا رہتا ہے۔ مجھ کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ میں ایک غیر مئی جہاز پر بیٹھا ہوں اور وہ جہاز مجھ کو لئے ہوئے تیزی سے آخرت کی دنیا کی طرف مسلسل چلا جا رہا ہے۔ اچانک وہ وقت آئے گا، جب کہ یہ اعلان کیا جائے گا کہ ہمارا جہاز آخرت کے ائیر پورٹ پر اتر گیا۔ مسافر ہوائی جہاز سے نکل کر باہر چلے جائیں۔ جب میں باہر آؤں گا تو وہاں ایک بالکل اجنبی دنیا ہوگی، جہاں نہ کوئی ساتھی ہوگا اور نہ کوئی سامان۔ اپنے لوگوں میں سے کوئی وہاں موجود نہ ہوگا جو میرا استقبال کرے۔ کیسا عجیب وقت آنے والا ہے، میرے لیے بھی، اور دوسروں کے لیے بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page