Urdu book · کتابِ معرفت

آخرت کا سفر

Urdu book, p. 552

By Maulana Wahiduddin Khan

عجیب بھول جج نے ملزم کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔ کل صبح 6 بجے تم کو پھانسی دے دی جائے گی۔ ملزم اس کو سن کر زور زور سے ہنسنے لگا۔ جج نے پوچھا: تم کیوں ہنس رہے ہو۔ ملزم نے جواب دیا: جناب، میں تو صبح 8 بجے تک سوتا رہتا ہوں۔ یہ ایک لطیفہ ہے، لیکن عملاً تمام لوگ اسی طرح کی خود ساختہ سوچ میں مبتلا ہیں۔ عورت بھی اور مرد بھی۔ غریب بھی اور امیر بھی، بوڑھے بھی اور جوان بھی۔ لوگوں کی یہی عجیب سوچ موت کے بارے میں ہے ۔ ہر روز اور ہر جگہ لوگ مر رہے ہیں۔ ہر آدمی دیکھتا ہے کہ کل ایک شخص زندہ موجود تھا اور آج وہ مر کر اس دنیا سے چلا گیا۔ اس قسم کے واقعات ہر آدمی کو ہر روز یاد دلاتے ہیں کہ کل ’6 بجے‘ تمھارا وقت آ سکتا ہے، لیکن ہر آدمی مذکورہ ملزم کی طرح اس نفسیات میں جی رہا ہے کہ میں تو ’8 بجے‘ تک سوتا ہوں، پھر موت کا فرشتہ مجھ کو کہاں پائے گا جو میری روح قبض کرے ۔ ہر آدمی کسی نہ کسی محفوظ قلعے میں جی رہا ہے۔ کوئی شخص اپنی فیملی میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہے، کوئی اپنی شہرت کو، کوئی شخص اپنی دولت کو اور کوئی اپنے عہدے کو اپنے لیے محفوظ پناہ گاہ سمجھے ہوئے ہیں ۔ وہ ایک شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھتا ہے کہ میں اتنا زیادہ دور ہوں کہ موت کے فرشتے کی رسائی وہاں تک ہونے والی نہیں۔ اسی خود ساختہ نفسیات کا یہ نتیجہ ہے کہ کوئی شخص اپنی موت کے بارے میں نہیں سوچتا، کسی مجلس میں موت کا تذکرہ نہیں ہوتا، کوئی شخص موت کے تصور سے خوف زدہ نہیں ہوتا، کسی کا یہ حال نہیں کہ موت کے تصور نے اس کی لذتوں کو ڈھا دیا ہو، موت کے تصور نے اس کے عیش کو مکدّر کر دیا ہو، کسی پر یہ حالت نہیں گزرتی کہ موت کی یاد اس کے دن کے چین کو چھین لے اور موت کی یاد اس کی رات کی نیند کو ختم کر دے ۔ موت کا تصور سب سے بڑا انقلابی تصور ہے۔ لیکن کوئی شخص موت کی یاد میں جینے والا نہیں، اس لیے کسی آدمی کی زندگی میں انقلاب بھی بر پا نہیں ہوتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page