Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ سچائی کو پانے میں بھی ناکام رہے گا۔ کوئی بھی دوسری چیز اس معاملے میں آدمی کو بچانے والی نہیں۔ معرفت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ جو آدمی معرفت کے سفر کا مسافر بنے، اس کو بار بار ایسی صورت حال کا سامنا پیش آئے گا، جب کہ وہ محسوس کرے گا کہ وہ شبہ اور یقین (doubt and conviction) کے درمیان ہے۔ وہ ایک چیز پر یقین کرنا چاہتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ کچھ ایسے اسباب بھی ہیں جو اُس کو شبہ کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہ ایک چیز کو ماننا چاہتا ہے، لیکن وہ اس کو مان نہیں پاتا۔ تذبذب (hesitation) کی یہ حالت اکثر لوگوں پر گزرتی ہے۔ یہ تذبذب معرفت کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب بھی کوئی شخص تذبذب کی کیفیت کا شکار ہوتا ہے تو ہمیشہ اس کے سامنے دو حالتیں ہوتی ہیں بی ایک طرف، عقل (reason) کی سطح پر وہ محسوس کرتا ہے کہ فلاں چیز علمی معیار پر بالکل درست ہے، لیکن اسی کے ساتھ اپنے روایتی خیالات کی بنا پر وہ اس شک میں رہتا ہے کہ کہیں اس کے اندر کوئی غلطی نہ ہو۔ علمی طور پر مدلل ہونے کے باوجود وہ موہوم شبہ کی بنا پر بے یقینی کی حالت میں پڑا رہتا ہے۔ بے یقینی کی یہ حالت کسی کے لیے عذر نہیں بن سکتی۔ معرفت کے طالب کے لیے ضروری ہے کہ وہ تذبذب کی اس حالت سے نکلے۔ وہ شبہ کے مقابلے میں علم کو ترجیح (priority) دے۔ وہ بے ثبوت شک کی فضا سے باہر آئے۔ وہ ثابت شدہ چیز پر یقین کرتے ہوئے اس کو اختیار کرلے۔ یہ معرفت کے حصول کی لازمی شرط ہے۔ اعلیٰ معرفت ایک حدیث میں آیا ہے کہ : اَلدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ، وَجَنَّةُ الْكَافِرِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2956) ۔ یعنی دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور غیر مومن کے لیے جنت۔ اس حدیث کو عام طور پر مادی معنی میں لیا جاتا ہے، یعنی دنیا کی مادی چیزوں میں مومن کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page