Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

سکون نہیں ملتا، جب کہ غیر مومن ان مادی چیزوں کو پا کر خوش ہو جاتا ہے۔ یا یہ کہ مومن کو شریعت کے نواہی ( ممنوعات ) میں جینا پڑتا ہے، جب کہ غیر مومن اپنے آپ کو اس قسم کی شرعی پابندیوں سے آزاد سمجھتا ہے۔ لیکن اس حدیث کا ایک اور مطلب ہے جو اعلیٰ معرفت سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک مومن جب حقیقت کی دریافت کے اُس ارتقائی مرحلے پر پہنچتا ہے جہاں اُس کو اعلیٰ معرفت حاصل ہوتی ہے، اِس وقت دنیا اُس کے لیے ایسی ہو جاتی ہے جیسے کہ وہ ایک نفسیاتی قید خانے میں ہے، جیسے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے جو اُس کے لیے بنائی نہیں گئی، جہاں اِس کی روحانی تسکین کا سامان موجود نہیں۔ ایسے مومن کو جب اعلیٰ معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اُس کا وجود اِس کا متحمل نہیں، اُس کے پاس وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعے وہ اپنی عارفانہ دریافت کو بیان کر سکے، اس کے پاس ایسے سامعین نہیں جو اس کی باتو ں کو سمجھ سکتے ہوں، اُس کے آس پاس وہ ماحول نہیں جہاں وہ اپنی معرفت کے ساتھ جی سکے۔ ایسا با شعور مومن ہر لمحہ یہ محسوس کرتا ہے جیسے کہ وہ ایک قفس میں ہے، تمام چیزیں اس کو اپنی عارفانہ سطح کے اعتبار سے غیر موافق نظر آتی ہیں۔ یہی اعلیٰ کیفیت کسی انسان کے لیے جنت میں داخلے کا سرٹفکٹ ہے۔ خدا جس انسان کو ایسی حالت میں پاتا ہے تو وہ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے کہ میرے اس بندے کو جنت میں داخل کردو، کیوں کہ جنت کو میں نے ایسے ہی بندوں کے لیے بنایا ہے۔ جنت ایسے ہی بندوں کے لیے ہے اور ایسے بندے صرف جنت کے لیے۔ معرفتِ الہی خدا کی معرفت (realization of God) ایک شعوری دریافت ہے۔ خدا کی معرفت کسی کو اس طرح نہیں ہوسکتی کہ وہ اللہ، اللہ، کی لفظی تکرار کرے، یا مراقبہ کرکے وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ دل کی ہر دھڑکن میں اس کو اللہ اللہ کی آواز سنائی دینے لگے۔ اِس قسم کی چیزیں ایک غیر متعلق ورز ش کی حیثیت رکھتی ہے، ان کا خدا کی معرفت سے کوئی تعلّق نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page