معرفت الہی
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے : خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر (6227) یعنی اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔ اسی کو لے کر ایک عربی مقولہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے: مَن عرف نفسه فقد عرف ربه ( حلیۃ الاولیاء، 10/208)، یعنی جس نے اپنے آپ کو پہچانا، اُس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ یہ بات بلا شبہ بہت با معنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جس طرح ایک انا (I) ہے، اِسی طرح خدا از زیادہ بڑے پیمانے پر ایک انا ہے۔ یہ شعوری انا، ساری کائنات میں ایک استثنا کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ واقعہ انسان کی اپنی حیثیت کو بتاتا ہے، اور اسی کے ساتھ وہ خدا کے وجود کو بھی ثابت کرتا ہے۔ اس لیے کہ اگر اس کائنات میں انسان کی صورت میں ایک چھوٹا استثنا (small exception) موجود ہے تو یہ واقعہ اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں ایک بڑا استثنا (big exception) بھی یقینی طور پر موجود ہے۔ انسان کا وجود لازمی طور پر خدا کے وجود کا ثبوت بن جاتا ہے۔ اسی بات کو حدیث میں ان الفاظ میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا، یعنی جس طرح خدا ایک استثنائی وجود ہے، اسی طرح انسان بھی کائنات میں ایک استثنائی وجود کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان اگر اس استثنا کے ظاہر ہ پر غور کرے تو وہ یقینی طور پر خدا کو دریافت کر لے گا، وہ پکار اٹھے گا میں ہوں، اس لیے یقینی طور پر خدا بھی ہے: I am, therefore, God is. معرفت کا استحقاق ایک حدیث قدسی ان الفاظ میں آئی ہے : الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي، وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي، فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا، قَذَفْتُهُ فِي النَّارِ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4090) یعنی اللہ نے فرمایا کہ کبریائی میری چادر ہے، اور عظمت میرا ازار ہے، ان دونوں میں سے کسی کے معاملے میں جو شخص مجھ سے نزاع کرے گا، میں اُس کو آگ میں پھینک دوں گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader