Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

اس حدیث قدسی سے تواضع (modesty) کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کے ساتھ انسان کی نسبت صرف حقیقی تواضع کی سطح پر قائم ہوتی ہے۔ انسان کے اندر اگر ایک ذرہ کے برابر بھی اپنی بڑائی کا احساس پایا جائے تو خدا سے اُس کی نسبت ہی نہیں قائم ہوگی، اور جس آدمی کی نسبت خدا سے قائم نہ ہو، اُس کا حال یہ ہوگا کہ وہ معرفت کا لفظ بولے گا، لیکن وہ معرفت سے کلی طور پر بے خبر رہے گا۔ حقیقی تواضع کی پہچان یہ ہے کہ بی آدمی کا حال یہ ہو جائے کہ تعریف اُس کو خوش نہ کرے اور تنقید سے اس کو ناگواری نہ ہو۔ جس آدمی کے اندر حقیقی تواضع نہ ہو، وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس احساس میں مبتلا رہتا ہے کہ میں بھی کچھ ہوں۔ اس قسم کا احساس اس کے لیے خدا سے تعلق قائم کرنے میں حتمی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سوکھی ہوئی زمین میں پانی ڈالا جائے تو وہ اس کو پوری طرح جذب (absorb) کرلے گی۔ اس کے برعکس، گیلی زمین پانی کا ایک قطرہ بھی جذب نہیں کرے گی۔ متواضع انسان (modest man) اس قابل ہوتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے آنے والے معرفت کے فیضان (inspiration) کو پوری طرح قبول کرے۔ اس کے برعکس، جس آدمی کے اندر کامل تواضع نہ ہو، اس کا حال یہ ہو جائے گا کہ وہ معرفت کے فیضان کو قبول کرنے کے لیے اس کا آخذ (recipient) نہ رہے گا، وہ معرفت کی بارش کے ماحول میں بھی معرفت سے محروم رہے گا۔ عارفانہ شخصیت حدیث میں آیا ہے: اِتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللہ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3127) یعنی مومن کی فراست سے بچو، کیوں کہ مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ اس حدیث میں فراست مومن سے مراد فراست عارف (wisdom of a realized person) ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جس شخص کو معرفت حاصل ہو جائے، وہ ایک بے پناہ شخص بن جاتا ہے۔ وہ خدا کی روشنی میں چلنے لگتا ہے، اور خدا کی روشنی کو بجھانے کی طاقت کسی کے اندر بھی نہیں۔ جس آدمی کو معرفت کے درجے میں ایمان حاصل ہو جائے، وہ انتہائی حد تک ایک باشعور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page