Urdu book · کتابِ معرفت

آخرت کا سفر

Urdu book, p. 590

By Maulana Wahiduddin Khan

موت سے بے خبر لوگ ہر روز مررہے ہیں۔ ہر روز انسان موت کی کوئی نہ کوئی خبر سنتا ہے، لیکن عجیب بات ہے کہ کوئی شخص خود اپنی موت کے بارے میں نہیں سوچتا۔ وہ دوسروں کی موت کے بارے میں جانتا ہے، لیکن خود اپنی موت کے بارے میں وہ شعوری طور پر بے خبر رہتا ہے۔ اس بے خبری کا سبب کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر بات جو آدمی جانتا ہے، وہ سوچ کر جانتا ہے۔ سوچنے سے باتیں آدمی کے علم میں آتی ہیں۔ جس چیز کے بارے میں آپ نہ سوچیں، اُس کے بارے میں آپ باخبر بھی نہیں ہو سکتے۔ انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنی محدودیت کی بنا پر کسی ایک ہی چیز پر فوکس (focus) کر پاتا ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ہر لمحہ علائق دنیا (worldly relations) میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ صرف اپنے ذاتی معاملات کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اس معاملے میں لوگوں کی بے خبری کا حال یہ ہے کہ وہ قبرستان میں ایک مرے ہوئے انسان کو دیکھتے ہیں، لیکن وہ بدستور اپنے دنیوی معاملات پر سوچتے رہتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں موبائل نے لوگوں کی اس غیر ضروری مصروفیت میں اور زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔ ہر آدمی کو بہر حال موت کا سامنا کرنا ہے، لیکن موت کا شعور صرف اُس انسان کو حاصل ہوگا جو دنیوی معاملات سے منقطع (detached) رہ کر موت کے بارے میں سوچ سکے۔ لوگوں کی اس عادت کا یہ نتیجہ ہے کہ ان کی سوچ کا دائرہ صرف اپنے دنیوی معاملات اور تعلقات تک محدود رہتا ہے۔ موت کا معاملہ کسی بھی وقت ان کے فوکس میں نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام عورتیں اور تمام مرد موت کے درمیان رہتے ہوئے بھی موت سے بے خبر رہتے ہیں۔ وہ موت کے واقعہ کو شعوری طور پر صرف اُس وقت جانتے ہیں جب کہ موت کا فرشتہ آجاۓ اور ان کی روح کو قبض کرکے جبری طور پر اُن کو موت کے بعد والی دنیا میں داخل کر دے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page