Urdu book · کتابِ معرفت

آخرت کا سفر

Urdu book, p. 591

By Maulana Wahiduddin Khan

موت یک طرفہ معاملہ زلزلہ ہمیشہ یک طرفہ طور پر آتا ہے۔ زلزلہ ایک ایسا فیصلہ کن واقعہ ہے جس میں انسان کی رائے اور اس کے اختیار کا کوئی دخل نہیں۔ یہی معاملہ موت کا ہے۔ موت ہمیشہ یک طرفہ طور پر آتی ہے۔ موت کے معاملے میں انسان کو کوئی ذاتی اختیار حاصل نہیں۔ موت کا یہ پہلو بے حد سنگین ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی ہر لمحہ موت کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔ موت جب کسی انسان کے اوپر آتی ہے تو وہ اچانک اس کو بالکل اکیلا بنا دیتی ہے۔ موت سے پہلے آدمی بے شمار چیزوں کے درمیان ہوتا ہے— گھر، خاندان، ساتھی، مددگار، نیز ایک پورا عالم فطرت جو ہر لمحہ اس کی حاجتیں پوری کرنے کے لیے موجود رہتا ہے۔ موت کے بعد آدمی اچانک محسوس کرتا ہے کہ اس کا وجود تو اب بھی وہی ہے۔ اُس کا وجود پہلے کی طرح اب بھی اس کے ساتھ ہوتا ہے، لیکن اپنے وجود کے باہر کی تمام چیزیں اس کا ساتھ چھوڑ چکی ہوتی ہیں۔ وہ اپنے سامنے دیکھتا ہے تو وہاں اس کو کوئی نظر نہیں آتا۔ وہ اپنے پیچھے دیکھتا ہے تو وہاں اس کو کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ وہ اپنے دائیں دیکھता ہے تو وہاں اس کو ہر طرف سناٹا نظر آتا ہے۔ وہ اپنے بائیں دیکھتا ہے تو وہاں بھی اس کو سناٹے کے سوا کوئی اور چیز دکھائی نہیں دیتی۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ یہاں اس کے لیے بے بسی اور بے چاری کے سوا کچھ اور موجود نہیں۔ موت سے پہلے کی دنیا میں آدمی کو بہت کچھ ملا ہوا رہتا ہے، مگر یہ تمام چیزیں صرف وقتی سامانِ حیات کے طور پر ہیں، وہ صرف موت سے پہلے کے دور حیات کے لیے ہیں، موت کے بعد کے دور حیات میں وہ دوبارہ کسی کو ملنے والی نہیں۔ البتہ جو عورت یا مرد اپنے کو مستحق ثابت کریں، ان کو موت کے بعد کے دورِ حیات میں یہ تمام چیزیں مزید اضافے کے ساتھ بطور انعام حاصل ہو جائیں گی۔ استحقاق (deservation) کے بغیر کسی بھی عورت یا مرد کو آخرت کی زندگی (life-Hereafter) میں دوبارہ یہ سامانِ حیات ملنے والا نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page