آخرت کا سفر
Urdu book, p. 593
By Maulana Wahiduddin Khan
موت کا دھماکہ ایک دولت مند آدمی کا واقعہ ہے۔ اُس نے اپنے گھر کے ایک ملازم سے کہا کہ میرا بستر ٹھیک کر دو، مجھے سونا ہے۔ یہ بہت نرم اور آرام دہ بستر تھا۔ ملازم نے بستر ٹھیک کیا۔ اُس کے بعد تھوڑی دیر کے لیے وہ بستر پر لیٹ گیا۔ ملازم تھکا ہوا تھا، چناں چہ اُس کو فوراً نیند آگئی۔ مذکورہ دولت مند آدمی جب اپنے کمرے میں آیا تو اُس نے دیکھا کہ اس کا ملازم اس کے بستر پر سورہا ہے۔ یہ دیکھ کر دولت مند آدمی کو غصہ آگیا۔ اُس نے دھکا دے کر ملازم کو جگایا اور ڈانٹ کر کہا کہ میں نے تم کو بستر ٹھیک کرنے کے لیے کہا تھا، نہ کہ خود اُس پر سونے کے لیے۔ یہ سن کر ملازم نے کہا: سر، اُس وقت کو یاد کیجئے جب کہ آپ پر موت آئے گی اور آپ کو اس نرم بستر کے بجائے قبر کے تاریک گڑھے میں لٹا دیا جائے گا۔ مذکورہ دولت مند آدمی کے لیے ملازم کا یہ قول ایک دھما کہ ثابت ہوا۔ اس قول کو سن کر وہ لرز اٹھا۔ اس کے بعد وہ بہت زیادہ موت کے بارے میں سوچنے لگا۔ یہ سوچ اتنی بڑھی کہ دولت کے باوجود اُس کا آرام وعیش اُس سے چھوٹ گیا۔ سب کچھ ہونے کے باوجود وہ اس طرح رہنے لگا جیسے کہ اُس کے پاس کچھ بھی نہیں۔ وہ زندگی سے زیادہ موت کو حقیقی سمجھنے لگا۔ اس کے بعد وہ بالکل سادہ زندگی گزارنے لگا، یہاں تک کہ وہ کم عمری میں مرگیا۔ موت کی یاد سب سے بڑی حقیقت کی یاد ہے۔ موت کی یاد آدمی کے اندر انقلاب برپا کر دیتی ہے۔ لیکن موت کی یاد کے لیے ایک دھماکہ درکار ہے۔ موت کی فراموشی کو توڑنے کے لیے دھماکہ سے کم کوئی چیز کارآمد نہیں۔ یہ دھما کہ مادی بھی ہو سکتا ہے اور فکری بھی۔ وہ انسان بلاشبہ ایک خوش قسمت انسان ہے جس کی زندگی میں اس طرح کا کوئی دھماکہ پیش آئے اور وہ موت کو یاد کرنے والا بن جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader