آخرت کا سفر
Urdu book, p. 594
By Maulana Wahiduddin Khan
سب سے بڑی کنڈیشٹنگ ہر انسان کو آخر کار مرنا ہے، لیکن ہر انسان موت کو بھولا ہوا ہے۔ حقیقی معنوں میں، موت کو یاد کرنے والا کوئی نہیں۔ اس کا سبب کیا ہے۔ ہر عورت اور مرد موت کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں، لیکن ہر عورت اور مرد موت سے بے خبری کی زندگی گزارتے ہیں۔ اس ظاہر ہ (phenomenon) کا اصل سبب کنڈیشٹنگ (conditioning) ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ ایک دنیا کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ پیدا ہوتے ہی اس کو ایک مکمل دنیا مل جاتی ہے۔ یہ دنیا ہر لمحہ اس کے ساتھ رہتی ہے۔ انسان خواہ اپنے مقام پر ہو یا وہ سفر میں ہو، ہر حال میں وہ ایک دنیا کے اندر زندگی گزارتا ہے۔ دنیا سے یہ غیر منقطع اور مسلسل تعلق ہر لمحہ اس کی کنڈیشٹنگ کرتا رہتا ہے۔ آدمی غیر شعوری طور پر یہ یقین کر لیتا ہے کہ میں اور دنیا دونوں ایک دوسرے کا لازمی حصہ ہیں۔ میں دنیا سے جدا ہونے والا نہیں، اور دنیا مجھ سے جدا ہونے والی نہیں۔ یہ پورا معاملہ غیر شعوری طور پر ہوتا ہے۔ اسی غیر شعوری معاملے کا نام کنڈیشٹنگ ہے۔ مسلسل عمل کی بنا پر یہ کنڈیشٹنگ آخری حد تک پختہ ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ کوئی عورت یا مرد یہ سوچ نہیں پاتے کہ اُن کے اوپر وہ وقت بھی آسکتا ہے جب کہ وہ موجودہ دنیا سے الگ ہو جائیں گے اور موجودہ دنیا اُن سے الگ ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ موت کے کنارے کھڑے ہو کر بھی وہ کامل طور پر موت کی حقیقت سے بے خبر رہتے ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ موت کو بہت زیادہ یاد کرو (أَکْثِرُوا ذِکْرَ ھَاذِمِ اللَّذَّاتِ يَعْنِي المَوْتَ)۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زبان سے موت موت کہتے رہو۔ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ بہت زیادہ سوچ کر موت کے بارے میں اپنی کنڈیشٹنگ کو توڑو، موت کے بارے میں اپنی ڈی کنڈیشٹنگ (de-conditioning) کرو۔ موت کے معاملے میں یہ ڈی کنڈیشٹنگ صرف اُس وقت ہو سکتی ہے جب کہ آدمی اِس معاملے میں غور و فکر کی آخری حد تک پہنچ جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader