Urdu book · کتابِ معرفت

آخرت کا سفر

Urdu book, p. 600

By Maulana Wahiduddin Khan

موت کی یاد موت کی یاد کیا ہے۔ موت کی یاد یہ ہے کہ آپ کامل شعور کے ساتھ یہ سوچ سکیں کہ آپ کا یہی زندہ وجود اچانک ایک دن موجودہ دنیا سے نکال کر ایک اور دنیا میں ڈال دیا جائے گا، جہاں آپ کی ہر چیز چھن چکی ہوگی ، حتی کہ آپ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے دوبارہ بات بھی نہ کر سکیں گے۔ آپ اُس دنیا میں اکیلے ہوں گے اور پوری طرح بے سروسامان بھی۔ یہ احساس جب زندہ شعور کی حیثیت سے آپ کے اوپر طاری ہو جائے ، تب سمجھیئے کہ آپ نے موت کو یاد کیا۔ موت کی یاد دور کے ایک واقعہ کی یاد نہیں ہے۔ موت کی یاد ایک ایسے بھیا نک تجربہ کی یاد ہے، جو بہر حال آپ کی زندگی میں پیش آنے والا ہے۔ موت کی یاد اگر اس طرح آپ کے دماغ میں سما جائے کہ دنیا سے آپ کی دلچسپی باقی نہ رہے۔ ہر رات آپ کو ایسی معلوم ہو جیسے کہ اگلی صبح آپ کے لیے قیامت کی صبح ہوگی۔ اور ہر صبح آپ کو ایسی معلوم ہو جیسے کہ آنے والی شام آپ کے لیے قیامت کی شام ثابت ہوگی۔ جب آپ کا حال یہ ہو جائے کہ آپ کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ہر لمحہ آپ موت کے دروازے پر کھڑے ہوئے ہیں۔ جب ہر مرنے والا شخص آپ کے لئے اپنی موت کی یاد دہانی بن جائے، اُس وقت سمجھیئے کہ آپ نے موت کو یاد کیا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اکثر واذكر هادم اللذات، الموت (الترمذی، کتاب الزہد) یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو جو لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔ اس حدیث میں لذت ایک جامع لفظ ہے۔ اس میں انسان کی تمام خواہشات اور تمام جذبات شامل ہیں۔ کوئی شخص موت کو حقیقی طور پر یاد کرے تو بلاشبہ اس کی زندگی میں بھونچال آجاۓ گا۔ اس کی شخصیت ہر اعتبار سے ایک نئی شخصیت بن جائے گی۔ اس کی سوچ مکمل طور پر آخرت رخی سوچ (akhirat-oriented thinking) بن جائے گی۔ موت کی یاد کے بعد اگر کوئی شخص ویسا بنا رہے، جیسا کہ وہ پہلے تھا تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ اس نے موت کو یاد ہی نہیں کیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page