آخرت کا سفر
Urdu book, p. 601
By Maulana Wahiduddin Khan
موت کی آہٹ جو شخص موت کے بارے میں حساس ہو، جو موت کو بہت زیادہ یاد کرے، ایسے شخص کو موت کی آہٹ پہلے سے معلوم ہو جاتی ہے۔ وہ مزید اضافہ کے ساتھ موت کی تیاری میں لگ جاتا ہے۔ ایسے شخص کے ساتھ یہ اللہ کی خاص نصرت ہوتی ہے۔ مگر جو لوگ موت سے غافل ہوں، جن کی زندگی موت کی یاد سے خالی ہو، ان کے ساتھ یہ حادثہ پیش آتا ہے کہ موت ان کو اچانک دبوچ لیتی ہے۔ اس کے بعد وہ اُن کو زمین کے موافق حیات سیارے سے اٹھا کر ایک ایسے غیر موافق مقام پر پہنچادیتی ہے جہاں سے واپسی ان کے لئے ممکن نہیں ہوتی۔ اب اچانک ان کو معلوم ہوتا ہے کہ اس غیر موافق مقام پر ان کو ہمیشہ کے لیے رہنا ہے۔ وہ یہاں پکاریں گے ،لیکن وہاں کوئی نہ ہوگا جو ان کی پکار پر دوڑے۔ وہ آنکھ کھول کر دیکھیں گے، لیکن وہاں کوئی قابل دید منظر ان کے دیکھنے کے لیے موجود نہ ہوگا۔ وہ روئیں گے اور تڑپیں گے، لیکن وہاں کوئی نہ ہوگا جو ان کے آنسو پونچھے اور ان کو تسکین دلائے۔ وہ بھاگنا چاہیں گے، لیکن وہاں کوئی منزل نہ ہوگی جدھر وہ بھاگ کر جاسکیں ۔ وہ اپنے دائیں دیکھیں گے اور بائیں دیکھیں گے وہ اپنے آگے دیکھیں گے اور پیچھے دیکھیں گے، لیکن ان لوگوں میں سے کوئی بھی وہاں موجود نہ ہوگا جن کو دنیا میں وہ اپنا ساتھی سمجھتے تھے۔ وہ بھوک سے تڑپیں گے ،لیکن وہاں ان کے لئے کھانے کا کوئی انتظام نہ ہوگا۔ وہ محسوس کریں گے کہ دنیا میں جو کچھ ان کے پاس تھا وہ ان سے چھوٹ چکا۔ اب نئے مقام پر اس کا کوئی امکان نہیں کہ وہ دوبارہ اپنی ایک نئی دنیا بناسکیں۔ یہ بھیا نک صورت حال ہر عورت اور مرد کے سامنے آنے والی ہے۔ ہر عورت اور مرد اچانک ایک ایسے مقام پر پہنچنے والا ہے، جہاں سے واپسی اس کے لیے ممکن نہ ہوگی۔ عقل مند انسان وہ ہے جو موت کے معاملے میں اتنا زیادہ حساس (sensitive) ہو کہ موت سے پہلے وہ اس کی آہٹ (inkling) محسوس کرلے۔ وہ موت سے پہلے، موت کی تیاری کرلے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader