آخرت کا سفر
Urdu book, p. 602
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی اور موت زندگی کیا ہے، موت کی طرف سفر۔ موت کیا ہے، غیر یقینی مستقبل کی طرف چھلانگ۔ جو انسان اِس حقیقت کو جان لے، اِس کے اندر ایک انقلاب آجائے گا۔ اس کی زندگی بھی بامعنیٰ ہو جائے گی اور اس کی موت بھی بامعنیٰ۔ اس کی رات اور دن اپنی خواہشوں کے تابع نہ رہیں گے، بلکہ وہ اُس خالق کی مرضی کے تابع ہو جائیں گے جس نے زندگی اور موت کا یہ نظام قائم کیا ہے۔ وہ اپنے لیے جینے کے بجائے، خدا کے لیے جینے لگے گا۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی مخلوق بن جائے گا۔ جس آدمی نے صرف زندگی کو جانا، اس نے کچھ نہیں جانا۔ جس آدمی نے زندگی کے بعد آنے والے موت کے مرحلے کو جانا، وہی دراصل جاننے والا ہے۔ اس لیے کہ زندگی کا لمحہ ایک مختصر لمحہ ہے۔ آخر کار جو تجربہ انسان کے ساتھ پیش آنے والا ہے، وہ موت کا تجربہ ہے۔ زندگی ایک ایسا سفر ہے جو آخر کار موت کے مرحلے تک پہنچنے والا ہے۔ موت، زندگی کا خاتمہ نہیں، بلکہ موت زندگی کے طویل تر مرحلے کا آغاز ہے۔ زندگی کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ موت کے مرحلے کے لیے پیشگی تیاری کا ایک وقفہ ہے۔ زندگی کا صحیح استعمال یہ ہے کہ آدمی زندگی کی اس حقیقت کو سمجھے۔ وہ ایسا کرے کہ زندگی کے معاملات میں مشغول ہو کر وہ موت اور موت کے بعد والے مراحل کو بھول جائے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دنیا میں اس طرح رہے کہ موت اس کے لیے ایک معلوم واقعہ بن کر آئے، نہ کہ ایک ایسا واقعہ جو اس کے لیے صرف ایک حادثہ ہو، جو اچانک اس کو دبوچ لے جس کے لیے اس نے پہلے سے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔ عقل مند وہ ہے جو اپنے ذہن کو موت کے بارے میں بیدار رکھے، جو اپنے عمل کا منصوبہ یہ سوچ کر بنائے کہ موت کے بعد آنے والے دور حیات میں وہ اس کے لیے مفید ثابت ہو، جس کی زندگی آخرت رخی زندگی ہو، نہ کہ صرف دنیا رخی زندگی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader