Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

(sense of pleasure ) رکھتا ہے۔ اس حقیقت کی دریافت اپنے آپ میں ایک اور بڑی حقیقت کی دریافت ہے، وہ یہ کہ اس دنیا میں جب شعور لذت کا وجود ہے تو یقینی طور پر اس دنیا میں اس کے فل فل منٹ(fulfilment ) کا سامان بھی ہونا چاہیے، کیوں کہ ہماری دنیا میں ہر چیز کی تکمیل کے لیے اس کا جوڑا (pair ) موجود ہے۔ اس عام قانون فطرت کے مطابق، یقینی طور پر ایسا ہونا چاہیے کہ شعور لذت (sense of pleasure ) کا جوڑا، یعنی فل فل مینٹ بھی اس دنیا میں موجود ہو۔ یہ ظاہر وہ جنت کے وجود کا یقینی ثبوت ہے۔ معرفت کی قیمت ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ قیمت کی ادائیگی کے بغیر کسی کو اس کی مطلوب چیز نہیں ملتی۔ اسی طرح معرفت الہی کی بھی ایک قیمت ہے، اور وہ قیمت طالب معرفت کی خود اپنی ذات ہے۔ اس سے کم کوئی چیز معرفت کی قیمت نہیں بن سکتی—خدا کی معرفت کسی آدمی کو ہمیشہ اپنی نفی کی قیمت پر ملتی ہے۔ اپنی نفی نہیں تو خدا کی معرفت بھی نہیں۔ اپنی نفی کا مطلب نام نہاد قسم کی پر اسرار ورزشیں نہیں۔ یہ معاملہ تمام تر غور و فکر کے ذریعہ انجام پاتا ہے، نہ کہ روحانیت کے نام پر کچھ جسمانی ورزشوں کے ذریعے_ نفی خویش (self-negation ) کیا ہے_ نفی خویش یہ ہے کہ آدمی رب العالمین کو اس طرح دریافت کرے کہ اس کے مقابلے میں اُس کو خود اپنا وجود سرا سر بے حقیقت نظر آنے لگے۔ نفی خویش کا مزاج دراصل عجز، تواضع، اعتراف، محاسبہ، بے نفسی، سادگی، خدا ترسی، جہنم کا خوف اور جنت کا اشتیاق، جیسی صفات کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ صفات متصوفانہ ریاضت کے ذریعے بیدار نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ہمیشہ فکری عمل (thinking process ) کے ذریعے کسی شخص کو حاصل ہوتی ہیں۔ نفی خویش کا عمل حقائق ربانی کی گہری دریافت کے بعد شروع ہوتا ہے، اور وہ زندگی کے آخری لمحے تک برابر جاری رہتا ہے۔ نفی خویش دراصل اپنی حقیقت واقعی کی دریافت کا دوسرا نام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page