Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، انسان کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک معمولی حادثہ اُس کے لیے ناقابل برداشت بن جاتا ہے۔ کسی بھی چیز کا علم اس کو یقین کے درجے میں حاصل نہیں۔ انسان ہر لمحہ خارجی اسباب کا محتاج ہے۔ انسان کے وجود کا کوئی بھی حصہ کسی بھی وقت اپنا فطری کام کرنا بند کر سکتا ہے۔ انسان نہ اپنی زندگی کی حقیقت کو جانتا اور نہ اپنی موت کی حقیقت کو جانتا۔ انسان بہت سی چیزیں چاہتا ہے، لیکن کسی بھی چیز پر اُسے کوئی قدرت حاصل نہیں۔ انسان بظاہر آزاد ہے، لیکن ارادہ (will) کے سوا ہر اعتبار سے، وہ مجبور ہے۔ انسانی وجود کے ان تمام پہلوؤں کے شعور ہی کا دوسرا نام نفیِ خویش ہے، اور یہی نفیِ خویش معرفت کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ نفیِ خویش ایک اعتبار سے، خدا کو قادرِ مطلق کی حیثیت سے دریافت کرنے کا نام ہے، اور دوسرے اعتبار سے، اپنے آپ کو عاجزِ مطلق کی حیثیت سے دریافت کرنے کا نام۔ معرفت کا دروازہ معرفت کا تعلق مفروضہ قسم کے رومالوی عشق سے نہیں ہے۔ معرفت کا تعلق اس بات سے ہے کہ آدمی گہرائی کے ساتھ یہ محسوس کرنے لگے کہ اس کا مستقبل تمام تر صرف ایک اللہ سے وابستہ ہے۔ اس کی محبوب جنت صرف اللہ کے دینے سے ملے گی۔ اسی طرح مبغوض جہنم سے نجات بھی اسی وقت ممکن ہوگی جب کہ اللہ اس کو اس سے نجات دے۔ کسی آدمی کے اندر جب اس قسم کا گہرا شعور پیدا ہو جائے تو اس کے بعد ہی ایسا ہوتا ہے کہ اس کے اوپر معرفت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ معرفت کوئی فلسفیانہ تصور نہیں۔ معرفت لازمی طور پر ہر آدمی کے ذاتی انٹرسٹ سے جڑی ہوئی ہے۔ اعلیٰ معرفت کا حصول صرف اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی ایک طرف فکری سطح پر معرفت کو دریافت کرے۔ نظریاتی اعتبار سے آدمی یہ جان لے کہ معرفت کے سوا کوئی اور چیز اس کی حقیقی منزل نہیں بن سکتی۔ آدمی کا ذہن پوری طرح اس کی صداقت پر مطمئن ہو جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page