Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی کا ذاتی انٹرسٹ مکمل طور پر معرفت کے ساتھ وابستہ ہو جائے ۔ اس معاملے میں اس کی دریافت اتنی زیادہ بڑھے کہ وہ شدت کے ساتھ محسوس کرنے لگے کہ معرفت کے حصول کے بغیر اس کا وجود بے معنی ہو جائے گا، اس کی زندگی اجڑ جائے گی، اس کے لیے مستقبل کے تمام امکانات ختم ہو جائیں گے، وہ ہر اعتبار سے ناکام و نامراد انسان ہو کر رہ جائے گا۔ جب آدمی کا یہ حال ہو کہ اس طرح وہ فکری اور عملی دونوں اعتبار سے، آخری حد تک معرفت کا طالب بن جائے تو اس کے فوراً بعد یہ ہوتا ہے کہ اس کے اوپر معرفت کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں، یہاں تک کہ معرفت کا کوئی بھی دروازہ اُس پر بند نہیں رہتا۔ یہی معرفت کا راستہ ہے۔ اس کے سوا کسی اور راستے سے معرفت کی منزل تک پہنچنا ممکن نہیں۔ اعلیٰ معرفت اگر تمام انسانوں میں کوئی ایک شخص ہے جو اعلیٰ معرفت تک پہنچا ہے تو وہ میں ہوں۔ اور اگر تمام انسانوں میں کوئی ایک شخص ہے جو اعلیٰ معرفت سے محروم رہا تو وہ میں ہوں یہ احساس اس انسان کا ہوتا ہے جو اعلیٰ معرفت کے درجہ تک پہنچے۔ اعلیٰ معرفت تک پہنچنا ممکن ہے مگر کوئی بھی شخص یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے اعلیٰ معرفت کا درجہ حاصل ہوا ہے۔ اس بے یقینی کا سبب یہ ہے کہ معرفت کسی خارجی کورس کا نام نہیں ہے کہ اس کو پورا کر کے آدمی سمجھ لے کہ میں نے معرفت کا کورس کر لیا اس لیے اب میں معرفت تک پہنچ گیا۔ معرفت تمام تر ایک داخلی حالت کا نام ہے۔ اور داخلی حالت کے بارے میں کوئی فیصلہ دینا صرف خداوند عالم الغیب کے لیے ممکن ہے۔ کوئی انسان حتی کہ خود طالب معرفت بھی اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ خدا کی اعلیٰ معرفت دراصل خدا کی اعلیٰ دریافت کا نام ہے۔ جب کوئی بندہ اس اعلیٰ دریافت تک پہنچتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا کے مقابلہ میں اس کی حیثیت تمام تر صفر (zero) کی ہو گئی ہے۔ خدا سب کچھ ہے اور وہ خود کچھ بھی نہیں۔ یہ دریافت اس کو بتاتی ہے کہ اس معاملہ میں فیصلہ کا سارا اختیار صرف خدا کو ہے، فیصلہ میں اس کا اپنا دخل کچھ بھی نہیں۔ یہ دریافت اس کو بتاتی ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page