Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

سارا معاملہ تمام تر یک طرفہ (unilateral) ہے۔ صاحب معرفت کون ہے۔ صاحب معرفت صرف وہ ہے جس کو خدا صاحب معرفت قرار دے۔ اور خدا فیصلے کے دن (Day of Judgement) سے ایک سیکنڈ پہلے بھی کسی کو کچھ نہیں بتاتاہی۔ یہی وجہ ہے کہ صاحب معرفت اپنی طرف سے سب کچھ کرنے کے باوجود اس معاملے میں آخر وقت تک مکمل طور پر ایک قسم کی بے یقینی (uncertainty) کے احساس میں مبتلا رہتا ہے۔ معرفت کی راہ میں رکاوٹ ایک امریکن اسکالر نے اسلام کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد اس نے اسلام پر ایک کتاب لکھی۔ اپنی اِس کتاب میں اس نے لکھا ہے کہ اسلام کا سب سے بڑا کنسرن اللہ ہے: The greatest concern of Islam is Allah. یہ نہایت درست بات ہے۔ معرفت کا دروازہ صرف اُس کے لیے کھلتا ہے جو ایک اللہ کو اپنا سول کنسرن (sole concern) بنالے۔ اسی طرح معرفت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اپنا واحد کنسرن نہ بناسکے۔ معرفت کے سلسلے میں بلاشبہ یہی سب سے زیادہ اہم بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ کوئی آدمی جس چیز کو اپنا واحد کنسرن بنائے، وہی چیز اس کی سوچ کا مرکز بن جاتی ہے۔ وہ اُسی چیز کی یاد کو لے کر سوتا ہے اور اسی چیز کی یاد کو لے کر جاگتا ہے۔ وہ چیز آدمی کے دماغ پر اتنا زیادہ چھا جاتی ہے کہ عملاً دوسری چیزیں اس کی یاد سے حذف ہوجاتی ہیں۔ آدمی اسی موضوع پر سوچتا ہے۔ وہ اسی کا چرچا کرتا ہے۔ وہ اسی کے بارے میں پڑھتا ہے۔ وہ اسی کے بارے میں ڈسکشن (discussion) کرتا ہے۔ آدمی کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ اسی چیز کی یاد سے اس کو سکون ملتا ہے۔ وہ اکیلے میں بھی اسی چیز کی بابت سوچتا ہے اور جب وہ لوگوں کے درمیان ہوتا ہے تب بھی وہ اسی کا چرچا کرتا ہے۔ یہی کسی چیز کو اپنا واحد کنسرن بنانا ہے۔ اور خدا کی معرفت صرف اس انسان کے لیے مقدر ہے جو اسی معنی میں خدا کو اپنا واحد کنسرن بنالے۔ جو شخص اس معنی میں خدا کو اپنا واحد کنسرن نہ بنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page