Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

سکے، وہ یقینی طور پر خدا کی معرفت سے محروم رہے گا۔ خواہ زبانی طور پر وہ اللہ کا نام لے، وہ تسبیح کے دانوں پر الحمد للہ اور سبحان اللہ کا لفظی وظیفہ پڑھتا رہے۔ معرفت کے حصول میں اصل رکاوٹ یہ ہے کہ آدمی خدا کے سوا کسی اور چیز کو اپنا بڑا بنالے۔ کسی کو بڑا بنانے کا یہ کام کبھی شعوری طور پر ہوتا ہے اور کبھی غیر شعوری طور پر، مگر نتیجہ دونوں کا ایک ہے، اور وہ ہے خدا کی اعلیٰ معرفت سے محرومی۔ جس عورت یا مرد کو خدا کی اعلیٰ معرفت مطلوب ہو، اس کو بہر حال یہ قیمت دینی پڑے گی۔ اس کو بہر حال یہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنی توجہ کو دوسری چیزوں سے ہٹائے اور صرف ایک اللہ کو اپنا واحد مرکزِ توجہ بنا لے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہ ایک نفسیاتی قربانی ہے۔ جو شخص یہ قربانی دے، اُسی کو وہ ربانی نعمت ملتی ہے جس کو معرفت کہا جاتا ہے۔ معرفت کا تجربہ ایک مرتبہ میں سورج کی روشنی میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔ اچانک ایک لمحے کے لیے ایسا محسوس ہوا جیسے میں خدا کے دیکھنے کو دیکھ رہا ہوں، میں خدا کے دیکھنے کا تجربہ کر رہا ہوں۔ اس کے بعد اچانک مجھ کو خیال آیا کہ خدا بھی تو اسی طرح دیکھتا ہوگا۔ اُس وقت ایسا محسوس ہوا جیسے کہ میں خدا کے دیکھنے کو دیکھ رہا ہوں۔ اسی طرح میں نے ایک بار کسی کے بولنے کو سنا۔ اُس وقت مجھے خیال آیا کہ خدا بھی تو اسی طرح بولتا اور سنتا ہوگا۔ اِس طرح ایک بار میں نے کسی بات کو سوچا، اُس وقت مجھے محسوس ہوا کہ خدا بھی تو اسی طرح سوچتا ہوگا، وغیرہ۔ ایک دن صبح کو فجر کی نماز کے بعد میں اپنے کمرے کی کرسی پر بیٹھا تھا۔ اُس وقت یہ تمام تجربات مجھے یاد آنے لگے۔ اچانک شدتِ احساس کے ساتھ میں چیخ اٹھا۔ تھوڑی دیر کے لیے میں ایک اور دنیا میں پہنچ گیا۔ اِس تجربے کو قریب تر الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے مجھے ایسا لگا جیسے کہ میں اپنے وجود کی صورت میں بلا تشبیہ خدا کی موجودگی (presence) کو محسوس کر رہا ہوں۔ میں خدا کے دیکھنے کو دیکھ رہا ہوں، میں خدا کے سننے کو سن رہا ہوں، میں خدا کے سوچنے کا تجربہ کر رہا ہوں۔ اُس وقت ایسا محسوس ہوا جیسے میرا وجود بلا تشبیہ خدا کے وجود میں ڈھل گیا۔ اُس وقت خدا میرے لیے اتنا ہی یقینی وجود بن گیا،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page