معرفت الہی
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
جتنی کہ مجھے خود اپنا وجود یقینی معلوم ہوتا ہے۔ ابنِ عربی کے اس شعر کو اگر وحدتِ وجود کے معنی میں نہ لیا جائے، جو کہ ایک باطل نظریہ ہے، تو غالباً وہ اسی قسم کے ربانی تجربے کا ایک بیان ہوگا: العبد عبد، ولو ترقى والرب رب، ولو تنزل اس طرح کے تجربات مختلف احوال کے درمیان مجھے بار بار پیش آتے ہیں۔ یہ تجربات میرے لیے خدا کی معرفت کو اُس سطح پر دریافت کرنے کے ہم معنی ہوتے ہیں جس کو قرآن میں بصیرت (14: 75) کہا گیا ہے۔ انسان کو خدا نے قدرت (omnipotence) کے سوا اپنی تمام صفات بشری سطح پر دے دیں، تا کہ انسان خدائی صفات کو بشری تجربات کی سطح پر سمجھ سکے۔ وہ خدا کے دیکھنے کو دیکھے، وہ خدا کے سننے کو سنے، اور پھر کامل یقین کے درجے میں وہ خدا کا عارف بن جائے۔ معرفت کی تمثیلات کائنات معرفت کا ایک عظیم دفتر ہے۔ کائنات کی ہر چیز معرفت کی ایک داستان ہے۔ کائنات کی ہر چیز معرفت کو مجسم کئے ہوئے ہے۔ بقیہ کائنات میں جو چیز فطرت کے قانون کے تحت ظاہر ہوئی ہے، وہی انسان کی سطح پر شعوری معرفت کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے۔ انسان اگر غور کرے تو کائنات کی ہر چیز اس کو معرفت کا سبق دیتی ہوئی نظر آئے گی۔ سورج تمثیل کی زبان میں بتا رہا ہے کہ معرفت وہی معرفت ہے جو انسان کے وجود کو اندر سے باہر تک روشن کردے۔ بہتا ہوا دریا انسان کو بتا رہا ہے کہ معرفت کو اس طرح حاصل کرو کہ وہ تمھاری روح میں چشمہ بن کر جاری ہوجائے۔ درخت کی ہری بھری شاخیں جب ہوا سے ہلتی ہیں تو وہ انسان کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ معرفت کو اس طرح حاصل کرو کہ وہ تمھارے لیے ایک پُر اہتزاز تجربہ (thrilling experience) بن جائے۔ چڑیاں جب چہچہاتی ہیں تو وہ انسان سے کہتی ہیں کہ خدا کے کمالات اس طرح دریافت کرو کہ تمھاری زبان پر حمد خدا وندی کا نغمہ جاری ہوجائے۔ پہاڑ کی بلندی خاموش زبان میں یہ پیغام دے رہی ہے کہ خدا کو اس کی اعلیٰ عظمتوں کے ساتھ دریافت کرو، وغیرہ۔ یہی حال پوری کائنات کا ہے۔ کائنات کی ہر چیز فطرت کی زبان میں معرفت کا پیغام دے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader