Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

رہی ہے۔ گویا کہ کائناتِ معرفت کی ایک عظیم لائبریری ہے۔ جس طرح ایک اسکالر لائبریری میں داخل ہو کر کتابوں کے ذریعے معلومات اخذ کرتا ہے، اسی طرح ایک سچا انسان کائنات کی خدائی لائبریری سے معرفت کی فکری غذا (intellectual food) حاصل کرتا ہے۔ کائنات کی لائبریری انسان کے لیے معرفت کا ایک لامحدود خزانہ ہے۔ کائنات کا ہر ذرہ معرفت کے انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں درخت کا ہر پتہ اپنے اندر معرفت کا دفتر سموئے ہوئے ہے۔ اسی بات کو ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے بی دانش مند انسان کی نظر میں سرسبز درختوں کا ہر پتہ معرفت خداوندی کا ایک دفتر لیے ہوئے ہے : برگ درختانِ سبز، در نظرِ ہوشیار ہر ورقے دفتری است، معرفتِ کردگار معرفت کا آغاز ایک عربی مثل ہے: لا أدری، نصف العلم (میں نہیں جانتا، آدھا علم ہے) یعنی اپنے بے خبری کو جان لینا، علم کا نقطۂ آغاز (starting point) ہے۔ آدمی جب یہ جان لے کہ میں نہیں جانتا تو اس کے بعد اس کے اندر جاننے کی اسپرٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ اسپرٹ آخرکار اس کو علم تک پہنچانے کا ذریعہ بن جاتی ہے، وہ اس کے نہ جاننے کو جاننا بنا دیتی ہے۔ یہی معاملہ معرفت کا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے یہ دریافت کرے کہ وہ معرفت سے خالی ہے۔ اس کے بعد اس کے اندر تلاشِ معرفت کا جذبہ پیدا ہوگا، جو آخرکار اس کو معرفت تک پہنچادے گا۔ علم کا آغاز روحِ تجسس (spirit of enquiry) ہے۔ یہی اسپرٹ معرفت کے لیے بھی ضروری ہے۔ آدمی کو سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ معرفت کے بغیر وہ اندھیرے میں ہے۔ معرفت کے ساتھ جینا روشنی میں جینا ہے، اور معرفت کے بغیر جینا اندھیرے میں جینا۔ معرفت کے بغیر انسان کے لیے صرف ناکامی ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ معرفت آدمی کو برتر سطح پر جینے والا بناتی ہے۔ معرفت والا آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ حقیقتوں کو بے آمیز (as it is) انداز میں سمجھ سکے ۔ معرفت آدمی کو فرشتوں کا ہم نشیں بناتی ہے۔ معرفت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ اُس کو خدا کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page