معرفت الہی
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
فیضان (inspiration) ملنے لگتا ہے۔ معرفت کسی انسان کو انسان کامل بناتی ہے۔ معرفت دنیا میں ہدایت کا ذریعہ ہے اور آخرت میں جنت کا ذریعہ۔ معرفت کسی انسان کے لیے اس کے سفرِ حیات کا صحیح آغاز ہے۔ معرفت کسی انسان کو بے شعور زندگی سے نکال کر باشعور زندگی کی طرف لے جانے کا ذریعہ ہے۔ معرفت کسی آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ بے خدا طرزِ زندگی سے نکل کر باخدا طرزِ زندگی کو اختیار کر سکے۔ معرفت کے ذریعے یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی اپنے اعلی امکانات (potentials) کو دریافت کرے اور خدا کی مدد سے اس کو واقعہ (actual) بنائے لی معرفت تکمیل علم کا ذریعہ ہے، اور تکمیل حیات کا ذریعہ بھی۔ معرفت کی زمین ایک پودے کے اگنے کے لیے زرخیز زمین (fertile land) درکار ہوتی ہے۔ صرف زرخیز زمین ہی میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہاں ایک پودا اُگے اور پھر بڑھتے بڑھتے وہ ایک ہرا بھرا درخت بن جائے۔ اس قسم کا واقعہ کسی بنجر زمین (barren land) میں نہیں ہوسکتا۔ زرخیز زمین درخت کے اگنے کے لیے موافق زمین ہے اور بنجر زمین درخت کے اگنے کے لیے غیر موافق زمین۔ یہی معاملہ معرفت کا بھی ہے۔ معرفت کا نشوونما صرف ایک موافق انسان کی شخصیت میں ہوتا ہے۔ غیر موافق انسان کی شخصیت میں کبھی معرفت کا نشوونما نہیں ہوتا۔ اس موافق شخصیت کو ایک لفظ میں، مثبت شخصیت (positive personality) کہا جاسکتا ہے۔ اسی طرح غیر موافق شخصیت کو ایک لفظ میں منفی شخصیت (negative personality) کہنا صحیح ہوگا۔ جو آدمی چاہتا ہو کہ اس کے اندر معرفت کا باغ پرورش پائے، اس کو چاہیے کہ وہ ہر قیمت پر اپنے آپ کو منفی شخصیت بننے سے بچائے۔ وہ اپنے آپ کو مثبت شخصیت بنائے، خواہ اُس کو اس کی کوئی بھی قیمت دینی پڑے۔ منفی شخصیت والا انسان وہ ہے جو رد عمل کی نفسیات میں جیتا ہو، جو ماحول کا اثر قبول کرتا رہے، جو اپنی شعوری ناپختگی (immaturity) کی بنا پر خارجی واقعات سے متاثر ہوتا رہے۔ ایسا انسان منفی شخصیت والا انسان ہے۔ ایسے انسان کو کبھی معرفت کا رزق نہیں مل سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader