Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

مثبت شخصیت والا انسان وہ ہے جو اپنی شعوری پختگی (maturity) کی بنا پر اس قابل ہو کہ وہ خارجی حالات سے اوپر اٹھ کر زندگی گزارے، جو خارجی اثرات سے غیر متاثرہ کر اپنے ذہن کی تشکیل کر سکے، جو منفی تجربات کو مثبت سبق (positive lesson) میں تبدیل کر سکے۔ یہی مثبت شخصیت ہے۔ اسی مثبت شخصیت کو خدا کی توفیق سے یہ موقع ملتا ہے کہ وہ مثبت انداز میں سوچے، اُس کو معرفت کی دریافت ہوتی رہے۔ اس کے اندر عارفانہ شخصیت کی تشکیل کا عمل (process) جاری رہے معرفت کا حصول صرف مثبت شخصیت کی زمین پر ہوتا ہے، نہ کہ منفی شخصیت کی زمین پر۔ معرفت کی روشنی آپ کے آفس میں ٹیوب لائٹ ہے، لیکن اس کا کنکشن پاور ہاؤس سے قائم نہیں ہوا ہے تو آپ کی ٹیوب لائٹ میں کوئی روشنی نہیں ہوگی، وہ بے نور پڑی رہے گی۔ لیکن جب اس کا کنکشن پاور ہاؤس سے قائم ہو تو اچانک وہ روشن ہو جاتی ہے۔ یہ مادی واقعہ اُس روحانی حقیقت کی مثال ہے جس کو معرفت (realization) کہا جاتا ہے۔ خدا اور بندے کے درمیان اگر ربط قائم نہ ہو تو اس کا وجود معرفت سے بے بہرہ رہے گا، لیکن جب خدا اور بندے کے درمیان ربط قائم ہو جائے تو اس کے بعد اچانک ایسا ہوتا ہے کہ بندے کا دل ودماغ معرفت کی روشنی سے منور ہو جاتا ہے۔ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan of God) کے مطابق، انسان کی حیثیت اس دنیا میں پانے والے (taker) کی ہے۔ اس کے مقابلے میں، خدا کی حیثیت دینے والے (giver) کی ہے۔ انسان ہر اعتبار سے، ایک محتاج مخلوق ہے۔ وہ اپنی کسی بھی حاجت کو خود سے پورا نہیں کر سکتا۔ یہ صرف خدا ہے جو اس کی تمام حاجتوں کو پورا کرنے والا ہے۔ انسانی شخصیت کا یہ احتیاطي پہلو انسان کو مسلسل طور پر فقدان کے احساس میں مبتلا رکھتا ہے۔ یہ احساس فقدان انسانی شخصیت کا ایک ایسا لازمی حصہ ہے جو کبھی اُس سے جدا نہیں ہوتا۔ جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page