معرفت تخلیق
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
کے تخلیقی منصوبہ کی معرفت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی فکری صلاحیت (intellectual ability) کو استعمال کر کے اپنے خالق اور اپنے رب کو دریافت کرے۔ پھر وہ اپنے آپ کو خالق کے منصوبہ میں شامل کرے، وہ اپنے آپ کو اس کا اہل بنائے کہ خدا اس کو اپنے اعلیٰ انعامات سے نوازے، وہ اپنے آپ کو جنت کے لیے لائق امیدوار (deserving candidate) ثابت کرے۔ قرآن کی یہ آیت اس سلسلے میں رہنما آیت کی حیثیت رکھتی ہے: خلق الموت والحياة ليبلوكم أيكم أحسن عملاً (67:2)۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق، موجودہ دنیا ایک انتخابی مقام (selection ground) ہے۔ یہاں آزادی کے ماحول میں انسان کو رکھ کر یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کون اپنے آپ کو احسن العمل (best in conduct) ثابت کرتا ہے۔ زندگی کا تصور، زندگی کو نہایت با معنی بنا دیتا ہے۔ برٹش سائنس داں سرجیمز جینز ( James Jeans) نے دیکھا کہ انسان اس دنیا میں آتا ہے اور اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے دماغ کو استعمال نہیں کر پاتا، اس کی خواہشوں کو فل فل مینٹ (fulfillment) نہیں ملتا اور وہ مر کر اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ یہ دیکھ کر اُس نے کہا کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آ گیا ہے جو اُس کے لیے بنائی نہیں گئی تھی: Man has strayed into a world which has not been made for him. لیکن قرآن کے مذکورہ تصور حیات کی روشنی میں دیکھیے تو انسانی زندگی ایک انتہائی با معنی واقعہ بن جاتی ہے۔ قرآن میں خدا کی صفت احسن الخالقین (المومنون، 23:14) بتائی گئی ہے۔ دوسری طرف انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ احسن العمل (67:2) بنے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کی جو صفت خدائی سطح پر ہے، وہی صفت انسان سے انسانی سطح پر مطلوب ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ خدا کی یہ صفت، قدرت کی سطح پر ظاہر ہوتی ہے اور انسان کے اندر یہ صفت، اطاعت (obedience) کی سطح پر۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader