Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت تخلیق

Urdu book, p. 90

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مشہور قول ہے: تخلّقوا بأخلاق اللہ (شرح العقیدۃ الطحاویہ، صفحہ 120) یعنی اللہ والے اخلاق کو اپناؤ۔ یہ قول حدیث رسول نہیں ہے، لیکن وہ قرآن کے مذکورہ بیان سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اخلاقِ خداوندی کے مشابہ بنائے، کسی مجبوری کے بغیر وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتے ہوئے احسن العمل بنے۔ جو لوگ اس معیار پر پورے اتریں، وہ خدا کے مطلوب انسان قرار پائیں گے۔ ان کو آخرت کی معیاری دنیا میں خدا کے پڑوس میں جگہ ملے گی (66:11)۔ وہ اس قابل ٹھہریں گے کہ ان کو خدا کی مہمان داری (hospitality) کا شرف حاصل ہوگا (41:32)۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری کائنات اللہ کی اطاعت کر رہی ہے (آل عمران، 3:83)۔ اس اعتبار سے، مادی کائنات انسان کے لیے اطاعت الہی کے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ انسان کامل آزادی کے باوجود خود اپنے اختیار سے اپنے آپ کو اللہ کی اطاعت میں دے دیتا ہے، جبکہ بقیہ کائنات جبّر (compulsion) کے تحت یہ اطاعت کر رہی ہے۔ اختیارات اطاعت (submission by choice) ایک استثنائی ظاہر ہ ہے جس کا ثبوت اس دنیا میں صرف انسان دیتا ہے۔ کائنات کی ہر چیز، ذرہ سے لے کر ستاروں (stars) اور سیاروں (planets) تک، کامل طور پر خالق کی عظمت بیان کر رہی ہے، مگر اُن کا یہ بیان خاموش زبان میں ہے۔ ایسی ایک دنیا میں انسان کھڑا ہو کر نُطق (speech) کی زبان میں کہتا ہے کہ خدایا، تو سب سے بڑا ہے۔ میں تیری عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے آپ کو تیرے آگے جھکاتا ہوں۔ یہ صرف انسان ہے جو شعور کی سطح پر خالق کو دریافت کرتا ہے اور پھر اپنے شعور کی سطح پر خالق کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے آگے مکمل طور پر اپنے آپ کو سرینڈر (surrender) کر دیتا ہے۔ یہی شعوری سرینڈر جنت کی قیمت ہے۔ انبیاء کا دور خالق کے منصوبہ (creation plan) کے مطابق، انسان کو ٹسٹ (test) کے لیے اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page