Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت تخلیق

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا میں رکھا گیا ہے۔ ٹیسٹ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اُس کا معیار (criterion) کیا ہے۔ وہ معیار یہ ہے کہ کون شخص ملی ہوئی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور کون شخص اس ملی ہوئی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ صحیح اور غلط کا فرق جاننے کے لیے خالق نے پہلا انتظام یہ کیا کہ انسان کی فطرت میں صحیح اور غلط کی تمیز رکھ دی۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فألهمها فجورها وتقواها (91:8) صحیح اور غلط کو جاننے کے لیے فطرت کی یہ رہنمائی گویا کہ ایک غیر منطوق رہنمائی (unspoken guidance) ہے۔ یہ رہنمائی پیدائشی طور پر عورت اور مرد کے اندر یکساں طور پر موجود رہتی ہے۔ اسی کے ساتھ خالق نے منطوق رہنمائی (spoken guidance) کا انتظام کیا۔ اس دوسرے انتظام کے تحت، اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں اور ہر بستی میں اپنے پیغمبر بھیجے (35:24)۔ ان پیغمبروں کو وحی (revelation) کے ذریعے وہ رہنمائی بھیجی گئی جس کو قرآن میں الصراط المستقیم (1:5) کہا گیا ہے۔ یہ پیغمبر تاریخ انسانی کے ہر دور میں مسلسل آتے رہے (23:44)۔ آدم، پہلے انسان بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ اس کے بعد حضرت محمد تک جو پیغمبر آئے، اُن کی تعداد حدیث میں تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار (1,24000) بتائی گئی ہے (مسند احمد بن حنبل، حدیث نمبر 22288)۔ قرآن میں نام کے ساتھ 25 پیغمبروں کا حوالہ آیا ہے۔ تاہم جدید ذہن کے نزدیک، یہ تمام پیغمبر غیر تاریخی پیغمبر کی حیثیت رکھتے ہیں، اُن کے نزدیک ان پیغمبروں کو تاریخی پیغمبر (historical prophets) کا درجہ حاصل نہیں۔ پیغمبروں کی پوری تاریخ میں صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا استثناء ہے۔ پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب مکمل طور پر ایک تاریخی پیغمبر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف ایک مغربی اسکالر نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ محمد تاریخ کی مکمل روشنی میں پیدا ہوئے: Muhammad was born within the full light of history. پچھلے پیغمبروں کا ذکر تاریخ میں کیوں موجود نہیں، اس کا سبب تاریخ نگاری کا قدیم ذوق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page